سانحہ گیاری سیکٹر کے شہداء کی لازوال قربانی کی 14ویں برسی
اپریل 2012 کو سیاچن کے محاذ پر انتہائی دل سوز حادثہ پیش آیا
سیاچن کا محاذ دنیا کا بلند ترین میدان جنگ ہے، سیاچن کے محاذ پر دشمن کے علاوہ شدید ترین موسم بھی پاک فوج کے آفیسر اور جوانوں کے لیے کڑی آزمائش ہے۔
7 اپریل 2012 کو سیاچن کے محاذ پر انتہائی دل سوز حادثہ پیش آیا، اس حادثے میں وطن عزیز کے دفاع پر مامور بڑی تعداد میں پاک فوج کے جوان برفانی تودے کی زد میں آگئے۔
اس دل سوز سانحے میں پاکستان آرمی کا بٹالین ہیڈ کوارٹر مکمل طور پر برف میں دب گیا، بٹالین ہیڈ کوارٹر میں موجود 129 فوجی جوانوں نے وطن کی حرمت کی خاطر جام شہادت نوش کیا۔
اس حادثے کے اثرات اتنے تلخ تھے کہ غیر ملکی ریسکیو ٹیموں نے بھی اس مشن کو ناممکن قرار دے دیا تھا، جذبہ حب الوطنی سے سرشار پاک آرمی کی انجینئرز کور نے اس ریسکیو آپریشن کو مکمل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔
پاکستان آرمی کے آفیسرز اور جوانوں کی انتھک محنت اور جوانمردی سے یہ مشکل ترین آپریشن پایۂ تکمیل تک پہنچا۔
سانحہ گیاری کے شہداء کی قربانیوں کی یاد میں سیاچن کے محاذ پر یادگار شہداء بھی تعمیر کی گئی، آج پوری قوم شہدائے گیاری سیکٹر کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے، شہداء گیاری کی عظیم قربانی پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

