کسی پڑوسی ملک کے بارے میں برا ارادہ نہیں رکھتے: افغان طالبان کے سپریم لیڈر

397907 1147584068


افغانستان میں طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے ہفتے کے اختتام پر اپنے ایک آڈیو پیغام میں پڑوسی ملکوں کو یقین دلایا ہے کہ ان کا ملک کسی کے بارے میں برا ارادہ نہیں رکھتا۔

ان کی آڈیو الامارہ کے واٹس ایپ گروپ پر شیئر کی گئی، جو افغانستان میں طالبان حکومت کا باضابطہ اردو میڈیا پورٹل اور خبر رساں پلیٹ فارم ہے۔  

آڈیو میں ملا ہبت اللہ پشتو زبان میں کہتے سنے جا سکتے ہیں ’پڑوسی خوف محسوس نہ کریں ہم کسی کے بارے میں برے ارادے نہیں رکھتے۔‘

انہوں نے کہا اسلام سلامتی کا دین ہے اور ’ہم سلامتی، امن اور صلح چاہتے ہیں۔ پرامن زندگی اور اسلامی نظام چاہتے ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جائن کریں

انہوں نے مزید کہا ’ہم کسی کے اشارے اور حکم  پر کام نہیں کرتے، ہم اپنی مرضی کے مالک اور خودمختار ہیں اور ہم کسی کی رسی سے بندھے نہیں۔ ہم مستقل (خودمختار) ہیں۔‘

افغانستان کے جنوب میں اپنے مضبوط گڑھ قندھار میں گوشہ نشین، طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ وہ مرکزی شخصیت ہیں جنہوں نے 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ’اسلامی قانون‘ کو سختی سے نافذ کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2016 میں طالبان کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر بہت کم دکھائی دیے ہیں، لیکن ان پر ماضی میں خواتین اور لڑکیوں پر مظالم کے الزام میں بین الاقوامی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔

ان کا یہ تازہ بیان پاکستان کے ساتھ گذشتہ دس ماہ سے جاری شدید کشیدگی کے تناظر میں اہم مانا جا رہا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان سرزمین کا مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف دہشت گردی (خصوصاً تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال ہونا ہے۔ 

پاکستان افغانستان میں ی ٹی پی کی سرپرستی کا الزام عائد کرتا ہے تاہم افغان طالبان اس کی تردید کرتے ہیں۔

تقریباً 60 یا 70 سال کی عمر کے اخوندزادہ عیدین اور دیگر اسلامی مواقع پر آڈیو پیغامات جاری کرتے ہیں اور قندھار سے ملک کا عمومی انتظام چلا رہے ہیں۔

اپنی تقرری سے قبل، ہبت اللہ نسبتاً غیر معروف تھے اور طالبان کی جنگی کارروائیوں میں زیادہ سرگرم نہیں تھے۔ وہ ایک دینی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اور ’شیخ الحدیث‘ کے لقب سے جانے جاتے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ