ایرانی ریال کی قدر پھر زمین بوس، ایک ڈالر 26 لاکھ 88 ہزار ریال تک پہنچ گیا

rial1775059661 0


ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں مسلسل کمی جاری ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں یہ نئی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایران کے مرکزی بینک نے کرنسی کو سہارا دینے کی غرض سے 2 ارب ڈالر تک مارکیٹ میں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق آزاد مارکیٹ میں ڈالر تقریباً 26 لاکھ 88 ہزار ایرانی ریال میں فروخت ہوا، جو ایک روز قبل 26 لاکھ 32 ہزار ریال تھا۔ ایک دوسرے کرنسی ٹریکنگ پلیٹ فارم کے مطابق ڈالر کی قیمت 26 لاکھ 95 ہزار ریال تک پہنچ گئی۔ اس طرح ایک ہی دن میں ایرانی کرنسی کی قدر میں مزید نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ریاستی بینکوں نے ریال کو سہارا دینے کے لیے 2 ارب ڈالر تک فروخت کرنا شروع کردیے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ریال اپنی قدر کا نصف سے زیادہ حصہ کھو چکا ہے، جبکہ گزشتہ ہفتے بھی یہ ڈالر کے مقابلے میں 25 لاکھ ریال سے تجاوز کرتے ہوئے نئی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچا تھا۔

ایران میں بڑھتی مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث شہری اپنی بچت کو محفوظ رکھنے کے لیے ڈالر، دیگر غیر ملکی کرنسیوں اور سونے کی جانب بھی رخ کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ایران میں مہنگائی کی شرح 70 فیصد سے زیادہ ہے، جس سے عام شہریوں کے لیے بنیادی ضروریات اور رہائش کے اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔

ایرانی مرکزی بینک کے گورنر کے معاون برائے زرمبادلہ امور مہدی دارابی نے ریال کی گراوٹ کی ایک وجہ امریکی حکام کی جانب سے ایرانی معیشت کے ممکنہ انہدام سے متعلق بیانات کو قرار دیا۔ انہوں نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ایران کی معیشت کے تباہ ہونے کی پیش گوئیوں سے مارکیٹ میں دباؤ بڑھ رہا ہے اور دشمن ان بیانات کو ریال کی شرحِ تبادلہ پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ دارابی نے موجودہ گراوٹ کو عارضی قرار دیا۔

ایرانی ریال کی حالیہ کمزوری کو امریکی پابندیوں، تیل کی برآمدات پر دباؤ اور خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر بھی دباؤ بڑھایا ہے، جس کے باعث ملک کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ حاصل کرنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ