ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مجاز بحری جہازوں سے مختلف خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کی شق کی منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت جہاز رانی، ماحولیاتی خدمات، ایندھن کی فراہمی، انشورنس اور سکیورٹی سمیت دیگر خدمات کے لیے فیس وصول کی جا سکے گی، تاہم یہ تجویز ابھی قانون سازی کے مراحل میں ہے اور اسے پارلیمنٹ اور گارڈین کونسل کی منظوری درکار ہوگی۔
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی نے اتوار کو ایک مجوزہ قانون میں ایسی شق کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت تہران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق کمیٹی نے ’’آبنائے ہرمز کی سلامتی اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اسٹریٹجک ایکشن پلان‘‘ کے مجوزہ قانون پر غور جاری رکھا۔ کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے بتایا کہ ارکان نے بل کے آرٹیکل ۳؍ کی منظوری دے دی ہے، جس پر گزشتہ اجلاس میں غور مؤخر کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس قانونی دفعہ کے تحت آبنائے ہرمز میں فراہم کی جانے والی جہاز رانی اور ماحولیاتی خدمات، خصوصی حالات میں ایندھن کی فراہمی، انشورنس، سیکوریٹی اور دیگر خدمات کے عوض فیس وصول کی جا سکے گی۔ قشقاوی کے مطابق یہ فیس ان ممالک سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں سے وصول کی جائے گی جنہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت حاصل ہوگی، اور ادائیگی ایرانی ریال یا تہران کی جانب سے مقرر کردہ کسی دوسری کرنسی میں کی جا سکے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مجوزہ قانون میں آبنائے ہرمز سے متصل ممالک کے حقوق کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون بین الاقوامی قوانین کے تحت سمندری جہاز رانی کی آزادی کو تسلیم کرتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساحلی ریاستوں کی سلامتی، خودمختاری اور حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیتا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز فروری میں شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ایک بڑا تنازع بنا ہوا ہے۔ جنگ سے قبل اس آبنائے سے بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت جاری تھی اور یہ خلیجی ممالک سے تیل و گیس کی برآمد کا انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ تاہم اب ایران اس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے اور گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے پر اصرار کر رہا ہے، جسے امریکہ مسترد کرتا ہے۔
قانون سازی کا عمل
ایران میں یہ تجویز قانون بننے کے لیے پہلے متعلقہ پارلیمانی کمیٹی میں بحث و منظوری سے گزرتی ہے۔ اس کے بعد کمیٹی کی رپورٹ مکمل پارلیمنٹ میں پیش کی جاتی ہے، جہاں ارکان ہر دفعہ اور پھر پورے بل پر ووٹنگ کرتے ہیں۔ منظوری کی صورت میں بل گارڈین کونسل کو بھیجا جاتا ہے تاکہ اس کا آئین اور اسلامی اصولوں سے مطابقت کا جائزہ لیا جا سکے۔ اعتراض کی صورت میں بل دوبارہ پارلیمنٹ کو بھیجا جاتا ہے، اور تنازع برقرار رہنے پر ایکسپیڈیئنسی کونسل مداخلت کر سکتی ہے۔ گارڈین کونسل کی منظوری کے بعد قانون صدر کی جانب سے نافذ کیا جاتا ہے۔

