ہری پور: زیادتی کے بعد قتل کی گئی 5 سالہ آیت نور سپردخاک، نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

umer 2026 08 25t031915 2791787653447 0



ہری پور:

خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی پانچ سالہ آیت نور کی نماز جنازہ ادا کردی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

دو ہفتے قبل پٹھان کالونی سے پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والی پانچ سالہ معصوم بچی آیت نور کی لاش یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک کنویں سے ملی تھی جسے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر کے اس کی لاش کو کنویں میں پھینک دی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق آیت نور پندرہ روز قبل اپنے گھر کے پاس سے لاپتہ ہوئی تھی۔ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تفتیش کا آغاز کیا جس میں بچی کو ایک لڑکے کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیا۔اس فوٹیج کی بنیاد پر پولیس نے مرکزی ملزم اور اس کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے پانچ مشتبہ افراد کی شناخت کی گئی۔

اس کیس میں پولیس نے اب تک پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں سے زیادہ تر کی عمریں سولہ سال سے کم ہیں اور وہ اسی کالونی کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔ دورانِ تفتیش مرکزی ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ بچی کو اغوا کر کے قریبی گراؤنڈ میں لے گئے جہاں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی تاہم ملزمان نے لاش کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔

بچی کی لاش ملنے سے قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں آیت نور کے والد نے شدید بے بسی کے عالم میں دردناک اپیل کی تھی۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج 14 دن گزر گئے ہیں اور میں بہت زیادہ پریشان ہوں، اس دوران میں نے انصاف کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کوئی داد رسی نہ ہو سکی۔

انہوں نے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں ایک غریب انسان ہوں، میری مدد کیجیے، اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری بچی کو ڈھونڈ نکالنے میں میری مدد کریں کیونکہ اس پریشانی میں مجھے نیند بھی نہیں آ رہی۔ واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئیاور علاقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں جمع ہو کر احتجاج بھی کیا تھا۔

آیت نور کی نماز جنازہ پیر کو کھاد فیکٹری کے گراؤنڈ میں ادا کردی گئی، جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ہری پور میں پانچ سالہ بچی کے مبینہ اغوا، زیادتی اور قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے گہرے رنج و غم اور شدید مذمت کا اظہار کیا ہے، انہوں نے معاملے کی تحقیقات کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کردی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ بچی کی گمشدگی کے بعد پولیس کی تحقیقات کے نتیجے میں چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ گرفتار افراد سے تفتیش کے بعد بچی کی لاش برآمد ہوئی، بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور قتل کی اطلاع انتہائی افسوسناک اور دلخراش ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلوائی جائے گی، بچی کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں، بچوں کے خلاف ایسے گھناونے جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ