جاپان: ۳۶۰ ٹن وزنی تاریخی ہیروساکی کیسل کو ۱۸۰۰ رضاکاروں نے ہاتھوں سے کھینچا


شمالی جاپان کے شہر ہیروساکی میں ایک نایاب اور تاریخی منظر دیکھنے میں آیا، جہاں تقریباً ۱۸۰۰ رضاکاروں نے ایک بڑے تحفظی منصوبے کے تحت ۳۶۰ ٹن وزنی، ۱۶۱۱ء میں تعمیر کردہ ہیروساکی کیسل کے برج کو اپنے ہاتھوں سے دو میٹر سے زائد فاصلے تک منتقل کیا۔ رضاکاروں نے باری باری برج سے منسلک ۳۰ میٹر لمبی رسیوں کو کھینچا، جس سے ہفتے کے دن ۱.۱۳ میٹر اور اتوار کو مزید ۱.۰۹ میٹر پیش رفت ہوئی۔
یہ برج، جو کیسل کا مرکزی مینار ہے، ۲۰۱۵ء میں اپنی اصل جگہ سے ہٹایا گیا تھا تاکہ ۲۰۱۱ء کے زلزلے سے تباہ ہونے والی قلعے کی دیوار کی مرمت کی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے حکام نے قدیم جاپانی تکنیک ’’ہکیا‘‘ کا استعمال کیا، جس میں عمارتوں کو رولرز پر رکھ کر بغیر گرائے منتقل کیا جاتا ہے۔ اب دیوار کی مرمت مکمل ہو چکی ہے اور تمام ۲۱۸۵ پتھر اپنی اصل جگہوں پر رکھے جا چکے ہیں۔
ہیروساکی شہر کے پارک ڈویژن کے سربراہ کینسوکے ہیاساکا کے مطابق، صرف ۱۸۰۰ نشستوں کے لیے تقریباً ۸۰۰۰ درخواستیں موصول ہوئیں، جو جاپان بھر کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ سے بھی آئیں۔ اس ماہ تقریباً ۴۱۰۰ افراد برج کو کل ۵ میٹر ہاتھوں سے منتقل کریں گے، جبکہ باقی ۷۳ میٹر کا فاصلہ مشینری کے ذریعے طے کیا جائے گا۔
ہیروساکی کیسل جاپان کے صرف ۱۲ بچ جانے والے قلعہ برجوں میں سے ایک ہے اور اسے ’’اہم ثقافتی ورثہ‘‘ کا درجہ حاصل ہے۔ یہ ایڈو دور (۱۶۰۳ء تا ۱۸۶۷ء) کا واحد قلعہ ہے جو آج بھی قائم ہے، اور ۲۰۰۶ء میں اسے جاپان کے ۱۰۰ بہترین قلعوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

متعلقہ پوسٹ