فرانس نے جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا اعلان کردیا — یورپ کی دفاعی خودمختاری کا نیا دور

IMG 20260304 WA0241


پیرس / برلن — فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے ملک کے بیلسٹک میزائل آبدوزوں کے فوجی اڈے ایل لانگ سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ فرانس اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ کرے گا اور پہلی بار اپنے جوہری ہتھیاروں سے لیس طیاروں کی یورپی اتحادی ممالک میں عارضی تعیناتی کی اجازت دے گا۔ 
میکرون نے کہا کہ ہمارے اسلحے کی اپ گریڈ ناگزیر ہے اور اسی لیے میں نے اپنے جوہری ذخیرے میں اضافے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ فرانس اب اپنے جوہری ذخیرے کے اعداد و شمار ظاہر نہیں کرے گا، جو ماضی کی شفافیت کی پالیسی سے ایک بڑا انحراف ہے۔ 
یورپی سلامتی اور امریکی غیر یقینی صورتحال
میکرون نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ امریکی دفاعی حکمت عملی میں حالیہ تبدیلیوں اور نئے خطرات کے ابھرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنی ترجیحات تبدیل کر رہا ہے اور یورپ سے توقع ہے کہ وہ اپنی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھائے۔ انہوں نے کہا یورپیوں کو اپنی تقدیر خود اپنے ہاتھوں میں لینی ہوگی۔ 
فارورڈ ڈیٹرنس حکمت عملی
میکرون نے ”فارورڈ ڈیٹرنس” کے تصور کو ”طاقت کا جزیرہ نما” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس طیارے یورپی براعظم میں پھیلائے جائیں گے تاکہ دشمنوں کے حسابات کو پیچیدہ بنایا جا سکے۔   برطانیہ، جرمنی، پولینڈ، نیدرلینڈز، بیلجیم، یونان، سویڈن اور ڈنمارک نے اس اقدام میں شامل ہونے پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔ 
فرانس کا جوہری ذخیرہ
فرانس کے پاس اس وقت تقریباً 290 جوہری وار ہیڈز ہیں اور یہ یورپی یونین کی واحد جوہری طاقت ہے۔ فرانس کا یہ قدم کم از کم 1992ء کے بعد پہلی بار جوہری ذخیرے میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔  (LBC)
جرمنی نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ نہ لینے کا اعلان کردیا
جرمن وزیرخارجہ یوہان واڈیفول نے واضح کیا کہ جرمنی ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی مہم میں فوجی طور پر شامل نہیں ہوگا، اگرچہ برلن ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کو ختم کرنے کے ہدف کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا برطانیہ نے امریکہ کو فوجی اڈے دیے ہیں، ہمارے پاس وہاں کوئی اڈے نہیں اور نہ ہی ضروری فوجی وسائل ہیں۔  (Scribd)
واڈیفول نے وضاحت کی کہ E3 ممالک کے مشترکہ بیان میں جو ”دفاعی اقدامات” کا ذکر ہے، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جرمن فوجی اگر حملہ ہو تو اپنا دفاع کریں گے، نہ کہ وہ جارحانہ آپریشنز میں حصہ لیں گے۔ 

متعلقہ پوسٹ