پاکستان نے ایران کو واضح پیغام دے دیا — سعودی عرب پر حملے پاک سعودی دفاعی معاہدے کی روشنی میں دیکھے جائیں گے


اسلام آباد — نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ دل و جان سے کھڑا ہے، تاہم ایران کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو مدنظر رکھنا ہوگا اور اس معاہدے کا احترام کرنا ہوگا۔  (
پاکستان اور سعودی عرب نے 17 ستمبر 2025 کو اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور یہ معاہدہ تمام فوجی ذرائع کا احاطہ کرتا ہے۔ 
شٹل ڈپلومیسی
اسحاق ڈار نے بتایا کہ جب ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں سعودی عرب پر حملے شروع کیے تو انہوں نے دونوں فریقوں سے رابطہ کیا اور ایران کے حملے رکوانے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے سعودی عرب سے یقین دہانی لی کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور یہ یقین دہانی ایران تک پہنچائی۔ 
ڈار نے سینیٹ کو بتایا کہ ایران نے درخواست کی تھی کہ سعودی سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہو، چنانچہ سعودی عرب سے یہ یقین دہانی حاصل کی گئی جس کے بعد سعودی عرب اور عمان کے خلاف ایران کا محدود ردعمل دیکھنے کو ملا۔ 
سب سے کم ری ایکشن سعودیہ کے خلاف
ڈار نے نشاندہی کی کہ سعودی عرب اور عمان کے خلاف دیگر خطے کے ممالک کی نسبت حملوں کی شدت کافی کم رہی اور ایرانی قیادت نے پاکستان کے موقف کو سمجھا اور اس پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ 
ایران میں پھنسے پاکستانی
اسحاق ڈار نے یاد دلایا کہ سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جبکہ ایران میں 33 ہزار پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں۔ ) پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے علاقائی امن کے لیے مصروف عمل ہے۔

متعلقہ پوسٹ