اسلام آباد — پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ورچوئل اثاثہ جات بل 2025 کو سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی منظور کر لیا ہے۔ بل کی منظوری سے پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو قانونی تحفظ فراہم ہوگا، جسے گزشتہ سال جولائی میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔
یہ قانون سازی پاکستان میں کریپٹو کرنسیز اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کو باضابطہ بنانے کے لیے ایک مستقل قانونی فریم ورک کی راہ ہموار کرتی ہے۔
PVARA کے اختیارات
پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی ایک خود مختار کارپوریٹ ادارے کے طور پر کام کرے گی جو ورچوئل اثاثہ جات سروس فراہم کنندگان کو لائسنس دینے، ریگولیٹ کرنے اور نگرانی کا اختیار رکھتی ہے۔ اتھارٹی بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی (DLT) کے فروغ اور نگرانی کی بھی ذمہ دار ہوگی۔
جرمانے اور سزائیں
بل میں لائسنس کے بغیر آپریشن پر پانچ سال قید، پچاس ملین روپے جرمانے یا دونوں کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ غیر قانونی ورچوئل اثاثہ جات آفرنگ پر تین سال قید یا پچیس ملین روپے جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ ہیرا پھیری اور انسائیڈر ٹریڈنگ سے متعلق بھی واضح قانونی احکامات شامل کیے گئے ہیں۔
بورڈ کی ساخت
اتھارٹی میں وزارتِ خزانہ، وزارتِ قانون، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، SECP کے چیئرمین، نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اتھارٹی اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے سربراہان کے علاوہ ڈیجیٹل فنانس میں مہارت رکھنے والے دو آزاد ڈائریکٹر شامل ہوں گے۔
PVARA کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے بل کی منظوری کو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم برسوں کی غیر منظم سرگرمی کو ایک شفاف، محفوظ اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول میں تبدیل کر رہے ہیں۔ (PBS)

