فروری 2016 میں جے این یو کے طالبعلموں کی سیڈیشن معاملے میں گرفتاری کے دس سال بعد اساتذہ اور طلبہ کا کہنا ہے کہ آج یونیورسٹی اپنی پرانی پہچان کی پرچھائیں محض رہ گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریے سے مطابقت نہ رکھنے والے پروگرام باقاعدگی سے منسوخ کیے جا رہے ہیں اور تقرریاں مہارت کے بجائے سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔
اساتذہ اور مبصرین کے مطابق کئی یونیورسٹیوں میں منظم طریقے سے دائیں بازو کی جانب رجحان رکھنے والے ڈین، وائس چانسلر اور پروفیسر حضرات کی تقرری کی گئی۔ ایسے میں ’بی جے پی حامی‘ افراد کی تقرری آسان ہوتی گئی، جو طلبہ کو معطل کرتے ہیں، پروگراموں کی اجازت نہیں دیتے ہیں یا تقریبات کو منسوخ کر دیتے ہیں۔ (السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)
نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی کے الگ الگ کالجوں کی طرف جانے والی سڑکوں پر اینٹوں کی دیواروں پر لگے چمکیلے بینر ایک ادبی میلے کا اعلان کرتے ہیں۔ بینروں کے مطابق یہ میلہ 12 سے 14 فروری کے درمیان ڈی یو میں منعقد ہوا۔ کالجوں کے اندر اور کیمپس ہاسٹلوں میں ساؤنڈ چیک کے دوران بھجن بجائے گئے۔
میلے کے کتابچہ میں اسے وائس چانسلر یوگیش سنگھ کے تصور کے مطابق ایک زندہ ادبی ’روایت‘ کی ابتدا کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
لیکن ٹھیک دس سال پہلے یہی فروری کا مہینہ دارالحکومت کی جامعات میں بالکل الگ ماحول لیے ہوئے تھا۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں ایک احتجاجی اجتماع دیکھتے – دیکھتے گرفتاریوں اور قومی سطح کے تصادم میں بدل گیا تھا—ایک ایسا واقعہ جس نے جامعات اور ریاست کے تعلق کو ازسرنو متعین کر دیا۔
اس کے بعد کے برسوں میں کالجوں میں داخلہ لینے والے طلبہ کہتے ہیں کہ اس دور کا سایہ آج بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق اختلاف ختم نہیں ہوا ہے، مگر اب ہر احتجاج کو تادیبی کارروائی، پولیس کی نگرانی اور غیر یقینی مستقبل کے خطرے کے ساتھ تولا جاتا ہے۔
احتجاج اور سزا
نو (9) فروری 2016 کو، 2001 میں پارلیامنٹ پر حملے کے مجرم قرار دیے گئے کشمیری علیحدگی پسند محمد افضل گورو کو 2013 میں پھانسی دیے جانے کے خلاف جے این یو میں ایک ریلی منعقد ہوئی، جس کے بعد کئی طلبہ پر سیڈیشن کے الزامات عائد کیے گئے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
اس وقت پولیس نے الزام لگایا تھا کہ اس وقت کے جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار نے افضل گورو کی یاد میں ایک پروگرام منعقد کیا تھا، جس میں ’ہندوستان مخالف نعرے‘ لگائے گئے۔ اس کے بعد جے این یو کے طلبہ کو ’اینٹی-نیشنل‘ قرار دیا جانے لگا اور کیمپس نظریاتی تصادم کا میدان بن گیا۔
کنہیا کمار، عمر خالد اور انربان بھٹا چاریہ، فائل فوٹو: پی ٹی آئی
فروری 2016 کی گرفتاریوں کے بعد کے دنوں میں بی جے پی کے سینئر رہنماؤں نے کیمپس میں اختلاف رائے کے مسئلے کو قومی شناخت کے سوالات سے جوڑ دیا تھا۔ اس وقت کے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ جے این یو تنازعہ میں حکومت نے ’نظریاتی جنگ جیت لی ہے‘، اور یہ اشارہ دیا تھا کہ الزامات کا سامنا کرنے والے لوگ بھی آخرکار حب الوطنی کے نعرے اور ترنگے کو اپنا رہے ہیں۔
اسی دوران اس وقت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ایسے نعروں کے ذریعے ہندوستان کی یکجہتی اور سالمیت پر سوال اٹھانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ اور یوں احتجاج کو براہ راست قومی سلامتی سے جوڑ دیا گیا تھا۔
یونیورسٹی کے اساتذہ یاد کرتے ہیں کہ اس کے بعد ملک بھر کے کیمپس میں انتظامیہ نے عوامی اجتماعات، سکیورٹی انتظامات اور تادیبی ضوابط کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا۔ مقررین کو مدعو کرنے، پروگراموں کی اجازت دینے اور مظاہروں کے نظم و نسق کو اب وقار اور قانونی خطرات کے تناظر میں دیکھا جانے لگا۔ یہ محض خدشہ نہیں تھا کہ کیمپس میں ہونے والا کوئی بھی پروگرام قومی تنازعہ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
اس کے اثرات جلد ہی اس یونیورسٹی کے دائرے سے باہر بھی نظر آنے لگے۔ 2017 میں دہلی یونیورسٹی کے رام جس کالج میں منعقد ایک ادبی سیمینار اس وقت تنازعہ کا شکار ہوگیا، جب جے این یو سے وابستہ رہے عمر خالد اور شہلا رشید کو مدعو کیا گیا۔ اے بی وی پی کے احتجاج کے بعد پروگرام منسوخ کر دیا گیا، کیمپس کے باہر جھڑپیں ہوئیں اور معاملہ جلد ہی جامعات میں قابل قبول اظہار کی حدود پر قومی بحث میں بدل گیا۔
متعدد طلبہ اور اساتذہ کے لیے یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ کوئی بھی تعلیمی پروگرام کتنی تیزی سے تصادم کے میدان میں بدل سکتا ہے۔
اب2016کے بعد داخلہ لینے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس احتیاط کو عقل سلیم کی طرح اپنایا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اب ریلیوں میں شرکت سے پہلے نگرانی، سوشل میڈیا پر نظر اور مستقبل کی نوکری کے امکانات پر بات چیت ہوتی ہے۔ سوال اب یہ نہیں رہا کہ بولنے کی آزادی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہےکہ عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے سیاسی ماحول میں ایک نوجوان کتنا خطرہ مول لے سکتا ہے۔
تحریکوں کی تبدیل ہوتی حکمت عملی
سابقہ احتجاجی مظاہروں کا حصہ رہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ایک طالبہ نے دی وائر سے کہا، ’ہمیں پیٹا گیا، ایک خاتون پولیس اہلکار نے مجھے اُن جگہوں پر مارا جہاں کسی عورت کو نہیں چھوا جانا چاہیے۔‘
سال2019سے ملک کے کئی کیمپس میں تصادم کا ایک ایسا سلسلہ دیکھا گیا ہے، جس نے ہر اگلی تحریک کی سمت متعین کی۔
دسمبر 2019 میں جامعہ کیمپس اور سڑک کے درمیان کی حد ٹوٹتی نظر آئی۔ ٹی وی فوٹیج اور موبائل ویڈیو میں دہلی پولیس کے اہلکاروں کو یونیورسٹی کے گیٹ سے اندر داخل ہوتے، آنسو گیس چھوڑتے اور عمارتوں میں داخل ہوتے دیکھا گیا، جبکہ طلبہ جان بچانے کے لیے بھاگتے نظر آئے۔
جامعہ کی لائبریری میں ملے استعمال کیے گئے آنسو گیس کے گولے۔ فائل فوٹو: پی ٹی آئی
لائبریری کے اندر کی تصویریں چند ہی منٹوں میں پھیل گئیں اور کئی دنوں تک دکھائی جاتی رہیں، جن میں طلبہ میزوں کے پیچھے دبکےہوئے تھے اور کچھ خون سے سنے چہروں کے ساتھ باہر نکل رہے تھے۔ یونیورسٹی کے پاس شہریت (ترمیمی) قانون/این آر سی کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کو بھی آنسو گیس سے منتشر کیا گیا۔ طلبہ اور شہری حقوق کے گروپوں نے حد سے زیادہ طاقت کے استعمال اور تعلیمی کیمپس میں غیر قانونی داخلے کے الزامات عائد کیے، جبکہ پولیس کا کہنا تھا کہ وہ مرکزی سڑک سے ہٹے مظاہرین کا پیچھا کر رہی تھی۔
ملک بھر کے لوگوں کے لیے اس واقعہ نے کیمپس کی سلامتی سے متعلق تصورات بدل دیے۔ جبکہ اسے جھیلنے والے طلبہ کے لیے یہ ایک مستقل صدمہ بن گیا۔ ایک طالبعلم نے بتایا کہ وہ قانون کی پاسداری کرنے والے شہری ہیں، اس کے باوجود پولیس یا ریپڈ ایکشن فورس کی موجودگی انہیں بے چین کر دیتی ہے۔
سی اے اے / این آر سی مخالف تحریک جلد ہی بی جے پی حکومت کے تصور سے کہیں آگے بڑھ گئی اور ملک کے کئی علاقوں اور یونیورسٹیوں تک پھیل گئی۔ یونیورسٹیوں کے پروفیسروں کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد کچھ بدل گیا ہے۔ یونیورسٹیوں میں سنسرشپ بڑھ گئی ہے۔
دی وائر سے بات کرنے والے اساتذہ اور مبصرین نے کہا کہ کئی یونیورسٹیوں میں منظم طریقے سے دائیں بازو کے کی طرف جھکاؤ رکھنے والے ڈین، وائس چانسلر اور پروفیسروں کی تقرری کی گئی۔ خصوصی طور پر 2016 کے بعد اور پھر 2019 کے بعد یہ عمل اور تیز ہو گیا۔ ایسے ’بی جے پی حامی‘ افراد کی تقرری آسان ہوتی گئی، جو طلبہ کو معطل کرتے ہیں، پروگراموں کی اجازت نہیں دیتے ہیں یا ایسے پروگرام منسوخ کر دیتے ہیں جن سے بائیں بازو یا لبرل نظریات کی بو آتی ہو۔
جے این یو سے ریٹائر معاشیات کے پروفیسر ارون کمار کا کہنا ہے کہ اقتدار سے اختلاف درج کرانے کی آزادی مسلسل محدود کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دی وائر سے کہا،’اقتدار تنگ نظری کا شکار ہو گیا ہے۔ یونیورسٹی ایسی جگہ ہوتی ہیں جہاں اختلاف رائے اور مباحثے سے علم جنم لیتا ہے۔ بی جے پی، آر ایس ایس کے تئیں اپنی نظریاتی وابستگی نبھا رہی ہے۔ جیسے وہاں اختلاف کی کوئی جگہ نہیں ہے، ویسے ہی وہ کہیں اور بھی اختلاف نہیں چاہتے۔ ‘
کمار نے 2016 سے پہلے اور بعد کی صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے کہا،’ایسا نہیں ہے کہ پہلے نظریات نہیں تھے، لیکن یونیورسٹیوں میں اختلاف اور بحث کی گنجائش تھی۔ آج وہ جگہ بہت تنگ ہو گئی ہے۔ ‘
دائیں بازو کا ابھار
جے این یو کے تنازعہ کی بازگشت جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی، ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز، ساؤتھ ایشین یونیورسٹی اور امبیڈکر یونیورسٹی، دہلی تک واضح طور پر سنائی دی۔ کئی بار یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے طلبہ اور اساتذہ کو معطلی کے خطوط تھمائے۔
مارچ 2025 میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر یونیورسٹی، دہلی کی ایم اے کے آخری سال کی ایک طالبہ کو یوم جمہوریہ پر وائس چانسلر انو سنگھ لاٹھر کی تقریر پر تنقید کرنے کے الزام میں معطل کر دیا گیا۔ لاٹھر نے اپنی تقریر میں رام جنم بھومی تحریک کو 525 سال پرانا بتایا تھا اور رام مندر کی تعمیر کے لیے برسر اقتدار جماعت کی تعریف کی تھی۔ انہوں نے ڈاکٹر امبیڈکر کو ’صرف‘ دلت برادری تک محدود نہ رکھ کر ایک قومی شخصیت کے طور پر دیکھنے کی بات بھی کہی تھی۔
کئی کیمپس میں معطلی کے احکامات اب محض تادیبی کارروائی نہیں سمجھے جاتے بلکہ انہیں ایک وسیع تر اشارہ مانا جانے لگا ہے۔
حال ہی میں پوری جے این یو طلبہ یونین کو یو جی سی کے ذات پات سے متعلق ضوابط کی حمایت میں مظاہرہ کرنے پر ’معطل‘کر دیا گیا تھا۔ جے این یو کی وائس چانسلر شانتی شری ڈی پندت نے ایک انٹرویو میں اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیوں کے طلبہ کو مرکزی حکومت کو ’بھگوان‘ کی طرح ماننا چاہیے، کیونکہ ان کی تعلیم سبسڈی پر ہے۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ کس طرح کے اظہار پر سزا مل سکتی ہے اور کسے ادارہ جاتی حمایت حاصل ہوگی۔ وقت کے ساتھ اس کا نتیجہ ایک خاموش، پہلے سے محتاط فرمانبرداری کی صورت میں نکلتا ہے؛ منتظمین مہمانوں کی فہرست پر دوبارہ غور کرتے ہیں، طلبہ ہلکی نعرے بازی کرتے ہیں اور شعبے ایسے موضوعات سے بچتے ہیں جو تفتیش کی زد میں آ سکتے ہوں۔ اسی ماحول میں منسوخ سیمینار، تبدیل شدہ نصاب اور سرکاری طور پر حوصلہ افزائی کیے گئے پروگرام وسیع سیاسی معنی اختیار کر لیتے ہیں۔
نصاب میں کیے گئے متنازعہ تبدیلیوں نے بھی طلبہ کو بارہا سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں دہلی یونیورسٹی میں کانچہ ایلیا شیفرڈ کی کتاب وہائے آئی ایم ناٹ اے ہندو کو ہٹانے اور منواسمرتی کے اقتباسات شامل کرنے یا بھگوت گیتا سے متعلق اسباق بڑھانے، جبکہ مغلیہ دور سے متعلق ابواب کم کرنے کی تجاویز پر طلبہ اور اساتذہ نے احتجاج کیا۔
کملا نہرو کالج کی معاشیات کی اسسٹنٹ پروفیسر مونامی بسو نے دی وائر سے کہا، ’ پروفیسر نندنی سندر کی قیادت میں ہونے والا کولاکوئم بغیر کسی وجہ کے منسوخ کر دیا گیا۔ ایک طرح کی بحث کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے اور دوسری طرح کی بحث کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ‘
دہلی یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کی رکن کے طور پر بسو کا کہنا ہے کہ کچھ نصابوں اور حصوں کسی خاص نظریے کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہٹایا گیا، جبکہ کچھ کو موجودہ اقتدار کی نظریاتی ہم آہنگی کی بنا پر شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’میں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ ذات اور جینڈر سے متعلق حصوں کو ہٹانے کی کوششیں ہوئیں، اور کبھی کبھی ہم کچھ حصے بچانے میں کامیاب بھی ہوئے۔ یہ بھی سنسرشپ کی ہی ایک شکل ہے۔‘
بائیکاٹ کا معمول بن جانا
دہلی یونیورسٹی کے ہندی پروفیسر اپوروانند کہتے ہیں کہ کیمپس میں تیز آواز میں بھجن بجتے ہیں، جن کا موضوع ’جئے شری رام‘، ’بھارت ماتا کی جئے‘ اور ’وندے ماترم‘ ہوتا ہے۔ انہوں نے دی وائر سے کہا، ’ کیمپس کو اب ایسا بنا دیا گیا ہے۔ یہ لوگوں کو الگ تھلگ کرنے کا کام کرتا ہے۔ یہ آر ایس ایس کا پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔ کچھ ہفتے پہلے یہاں سرسوتی پوجا ہوئی، ہر طرف جئے شری رام کے جھنڈے تھے۔ ایودھیا میں رام مندر کی پران پرتشٹھا کے وقت بھنڈارے لگائے گئے تھے۔‘
انہوں نے کہا، ’ یہاں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ ہندوتوا کو فروغ دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی یا آر ایس ایس کے جھکاؤ کے بغیر کوئی طلبہ سرگرمی ہونے نہیں دی جاتی۔ طلبہ سیاست کی کوئی گنجائش نہیں بچی ہے۔ لٹریچر فیسٹیول کی مہمانوں کی فہرست دیکھ لیجیے۔‘ اپوروانند کے مطابق نجی یونیورسٹیوں میں بھی یہی رجحانات دکھائی دے رہے ہیں۔
پچھلے سال اپوروانند کو جامعہ ہمدرد میں لیکچر کے لیے مدعو کیا گیا تھا، لیکن آخری وقت میں پروگرام منسوخ کر دیا گیا۔ 2025 میں انہیں نیویارک کے دی نیو اسکول میں ایک تعلیمی پروگرام میں شرکت کرنی تھی، جس کے لیے دہلی یونیورسٹی انتظامیہ نے ان سے پہلے ان کی تقریر کا متن جمع کرانے کو کہا۔ انکار کرنے پر انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا، ’ یہاں کا ماحول پوری طرح سے ختم کر دیا گیا ہے۔‘
اسی دوران، ڈی یو لٹریچر فیسٹیول کا آغاز اے این آئی کی ایڈیٹر سمیتا پرکاش، بی جے پی کے سینئر لیڈر رام مادھو اور بی جے پی کے خارجہ امور کے انچارج ڈاکٹر وجئے چوتھائیوالے سے ہوا۔ دیگر مقررین میں راجیہ سبھا کے رکن اور بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی، دائیں بازو کی ٹی وی اینکر انجنا اوم کشیپ، راہل شیوشنکر، روبیکا لیاقت، دی کشمیر فائلز کے ہدایت کار وویک اگنی ہوتری اور بی جے پی کے ترجمان شہزاد پونا والا شامل تھے۔
ڈی یو لٹریچر فیسٹ۔ فوٹو : فیس بک /ڈی یو لٹریچر فیسٹ
اس رپورٹ کے لیے جن اساتذہ سے بات کی گئی، ان کے مطابق مہمانوں کی یہ فہرست اسی وسیع تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جس کا وہ ذکر کر رہے تھے۔ جس میں کیمپس میں گئوشالاؤں کی تعمیر اور وائس چانسلر کی جانب سے ’نکسل مکت بھارت: مودی کی قیادت میں لال دہشت کا خاتمہ، کیمپس نشانے پر کیوں؟‘ جیسے موضوعات پر تقاریر بھی شامل ہیں۔
اسی ماحول میں ممبئی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی شریک میزبانی میں اداکار نصیرالدین شاہ کے ساتھ شاعری اور افسانہ خوانی کا ایک پروگرام یکم فروری کو ہونا تھا، لیکن اداکار نے الزام لگایا کہ ’ آخری وقت پر ان کا دعوت نامہ واپس لے لیا گیا‘ اور پروگرام کو رد کر دیا گیا۔
جامعہ ملیہ، امبیڈکر یونیورسٹی دہلی اور ساؤتھ ایشین یونیورسٹی جیسے اداروں میں طلبہ کہتے ہیں کہ معطلی، تادیبی تحقیقات اور پولیس مقدمات کے خدشات طے کرتے ہیں کہ وہ کب اور کیسے منظم ہوں۔ کئی طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ اب اجازت لینے، زبان کو محتاط رکھنے اور انتظامی جانچ کے لیے پہلے سے تیار رہنے کے عادی ہو گئے ہیں،ایسی باتیں، جو ایک دہائی پہلے غیر معمولی سمجھی جاتی تھیں۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

