
(24نیوز)وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں رنگ لےآئیں، پاکستان نے امریکا ایران جنگ رکوا دی،امریکی صدر نے ایران پر بمباری 2 ہفتوں کیلئے روکنےکا اعلان کردیا۔
سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو 2 ہفتوں کیلئے مؤخر کر دیا گیا ہے اور اس دوران دو طرفہ جنگ بندی نافذ رہے گی۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران کے خلاف فوری کارروائی مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ جنگ بندی اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ انداز میں کھولنے پر آمادہ ہو جائے، اس اقدام کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور دیرپا امن کیلئے راہ ہموار کرنا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے نمایاں پیشرفت ہو چکی ہے، ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکاتی منصوبے کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابلِ عمل سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جنگ بندی معاہدے کی توثیق ، آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ماضی کے بیشتر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، اور دو ہفتوں کی یہ مہلت حتمی معاہدے کو مکمل کرنے میں مدد دے گی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ بطور امریکی صدر اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچنا ایک اعزاز ہے، امید ہے کہ جلد ہی خطے میں پائیدار امن قائم ہو جائے گا۔
خیال رہے کہ اس سے کچھ دیر قبل ہی وزیراعظم پاکستان نے اپنے پیغام میں امریکی صدر سے درخواست کی تھی کہ سفارتکاری کو موقع دینے کیلئے ایران پر حملے کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے۔
وزیراعظم پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت ایران سے آبنائے ہرمز کو بھی 2 ہفتوں کیلئے کھولنے کی درخواست کی تھی تاکہ سفارتی عمل کو کامیاب بنایا جا سکے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔
علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کے بعد امریکا نے ’’100 فیصد فتح‘‘ حاصل کر لی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طویل المدتی امن معاہدے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک پہلے ہی موجود ہے اور پیشرفت مثبت سمت میں جاری ہے، 15 نکاتی منصوبے میں سے بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ باقی معاملات پر بھی جلد پیش رفت متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری مواد کسی بھی حتمی امن معاہدے کا لازمی حصہ ہوگا، آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی اور دیکھا جائے گا کہ مذاکرات کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی تعمیر میں مدد کرے گا، بہت ساری مثبت کارروائیاں ہوں گی، بڑی رقم کمائی جائے گی، ایران تعمیر نو کا عمل شروع کر سکتا ہے، ہم آبنائے ہرمز میں ہر قسم کی سپلائیز تیار کر رہے ہیں اور حالات پر نظر رکھیں گے تاکہ سب کچھ بخوبی اور بغیر کسی رکاوٹ کے چل سکے۔

