جلوسِ میلاد یا طاقت کا مظاہرہ؟

IMG 20260825 WA0629 1

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​ربیع الاول کا بابرکت مہینہ آتے ہی پوری دنیا سمیت ہمارے پیارے شہر بہاولنگر کی فضاؤں میں درود و سلام کی صدائیں گونجنے لگتی ہیں۔ گلی محلوں، گھروں اور مساجد کو رنگ برنگی جھنڈیوں، پرچموں اور برقی قمقموں سے سجانے کا رواج بظاہر محبت کا ایک خوش آئند طریقہ ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس ظاہری سجاوٹ کے ساتھ ساتھ ہم اپنے باطن، اپنے دامن اور اپنے کردار کو بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور اخلاقِ کریمانہ سے سجاتے۔ اگر ہم گلیوں کو سجانے کے ساتھ ساتھ اپنے کردار کو بھی سیرتِ طیبہ کے مطابق سجانے کی کوشش کرتے تو یہ محبت کا زیادہ سچا اور پائیدار اظہار ہوتا۔ یہ دن سراسر محبت، عقیدت، انکساری اور صاحبِ لولاک کی تعلیمات کو عام کرنے کا ہے۔ جب ہم بہاولنگر کی سڑکوں پر نکلنے والے ان جلوسوں کا زمینی جائزہ لیتے ہیں تو ضمیر جھنجھوڑ اٹھتا ہے۔ عشقِ رسول کے اظہار کا مقدس مقصد تو کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ اب تو یہ جلوس صرف طاقت کے مظاہرے، انا کی تسکین اور مذہبی تنظیموں کی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی ہوس کا اکھاڑا بن چکے ہیں۔ یہاں ایک مذہبی تنظیم یا جماعت دوسری مذہبی تنظیم یا جماعت کے پیچھے چلنے کو اپنی تذلیل سمجھتی ہے۔ حالانکہ بارگاہِ رسالت مآب میں یہ غرور اور تکبر نہیں بلکہ عاجزی اور خاکساری ہی اصل سرمایہ ہے۔ پہلے پہر نکلنے والے روایتی جلوسوں میں صورتحال تشویشناک ہوتی ہے۔ اسلامی تعلیمات اور تہذیب و اخلاق کے دائرے میں جلوس نکالنے کے بجائے اس قدر بھگدڑ اور دھکم پیل مچتی ہے کہ چھوٹے بچے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ دھکم پیل کی وجہ سے بعض اوقات بچے یا بزرگ گر بھی پڑتے ہیں۔ بات یہی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس دوران جب کسی دوسری مذہبی تنظیم یا جماعت کے جلوس سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو معمولی بات پر تلخ کلامی اور لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ عمل اس بابرکت دن کے تقدس کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ جلوس کے ان شرکاء میں نظم و ضبط کا نام و نشاں نہیں ہوتا۔ ٹریفک بلاک کرنے کے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جن سے عام شہریوں کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف، جب 12 ربیع الاول کے روز جشنِ ولادت کے جلوس اپنے مقررہ راستوں پر رواں دواں ہوتے ہیں تو اس دوران گلیوں، چوکوں اور بازاروں میں چھوٹی بڑی محفلِ میلاد اور دعا کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ ان مقامات پر لنگر و نیاز تقسیم کرنے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے لیکن اس مقدس عمل کے دوران بھی آداب کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ لنگر تقسیم کرنے والوں اور لینے والوں دونوں کو تہذیب کا دائرہ ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے۔ بعض اوقات عمارتوں اور چھتوں سے مٹھائیوں یا بریانی کے پیکٹ نیچے ہجوم کی طرف پھینکے جاتے ہیں۔ اس سے لینے والوں میں شدید دھکم پیل ہوتی ہے جو کہ قطعی مناسب طریقہ نہیں ہے۔ ایک ہی کلمہ پڑھنے والے اور ایک ہی نبی کو ماننے والے جب سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ان کا یہ اجتماع اتحادِ امت کا حسین منظر پیش کرنے کے بجائے ہمارے فکری و گروہی انتشار کا منہ بولتا ثبوت بن جاتا ہے جو دن امت کو ایک لڑی میں پرو دینے کا تھا، اسی دن فرقہ واریت اور تنظیم بازی کی دیواریں مزید بلند ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ ہر تنظیم کی اپنی الگ ڈفلی اور اپنا الگ راگ ہوتا ہے۔ جلوس کے دوران مختلف مقامات پر ہونے والی تقاریر بھی اکثر تعمیری ہونے کے بجائے تخریبی ہوتی ہیں۔ بعض مقررین اسٹیج پر کھڑے ہو کر دوسرے مسالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس قسم کی شعلہ بیانی اور فتوے بازی سے مذہبی منافرت پھیلتی ہے۔ ان تمام تلخ حقائق سے بھی زیادہ اندوہناک پہلو یہ ہے کہ جب ہم اسٹیج پر یا جلوس کی قیادت کرنے والے نمایاں مقامات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جنہیں معاشرے کی اصلاح کرنا تھی اور جو سراپا ادب و اخلاق کا پیکر ہونے چاہیے تھے، وہ علماء کرام اور مشائخ عظام بھی بعض اوقات اسٹیج پر فرنٹ لائن میں کھڑے ہونے، ایک دوسرے سے برتری لے جانے اور سب سے آگے بڑھنے کے لیے اس قدر بے تاب نظر آتے ہیں کہ کہنی مار کر دوسروں کو پیچھے دھکیلنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ان سب کی یہ تگ و دو صرف اس لیے ہوتی ہے کہ انہیں سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر بھرپور کوریج مل سکے۔ وہ کیمرے کی آنکھ کا مرکز بن کر خود کو نمایاں کر سکیں۔ یہ منظر دیکھ کر دل دہل جاتا ہے کہ جنہیں امت کی رہنمائی کرنا تھی، وہ خود اس ہوس کا شکار ہو چکے ہیں کہ ہم ہی سب کچھ ہیں۔ تاہم، اس تاریک تصویر کا ایک روشن پہلو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ نظم و ضبط اور اخلاق کا دامن تھامنا ناممکن نہیں ہے۔ اگر ہم بہاولنگر میں 12 ربیع الاول کے روز نکلنے والے جلوسوں کا تقابلی جائزہ لیں تو روایتی جلوسوں کی افراتفری کے برعکس "دعوتِ اسلامی” کے زیرِ اہتمام نکلنے والا جلوس بالکل ایک شاندار منظر پیش کرتا ہے۔ وہاں نہ کوئی دھکم پیل ہوتی ہے اور نہ انا کی جنگ۔ شرکاء انتہائی باادب طریقے سے تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے جشن مناتے ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جب نیت درست ہو، تو ہجوم کو ایک منظم قافلے میں بدلا جا سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سب کی تعلیمات ایک ہیں تو پھر روایتی جلوسوں میں وہ نظم و ضبط کیوں نظر نہیں آتا جو سیرتِ طیبہ کا اصل تقاضا ہے؟ یاد رہے، عشقِ رسول کا تقاضا تو عاجزی، انکساری اور حسنِ اخلاق ہے۔ ہمارے روایتی جلوسوں میں آج تکبر، نفس پرستی اور نمائش کا عنصر غالب آ چکا ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ بہاولنگر کی تمام مذہبی تنظیمیں، علمائے کرام اور سول سوسائٹی کے ذمہ داران سر جوڑ کر بیٹھیں۔ اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کریں۔ جلوسوں کے روایتی اور نمائشی کلچر کو ختم کر کے اسے حقیقی سیرت النبی کانفرنسز اور پرامن جلوسوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر بہاولنگر کو بھی چاہیے کہ وہ 12 ربیع الاول سے قبل علماء کا مشاورتی اجلاس بلائیں اور انہیں اس بات پر راضی و متفق کریں کہ وہ الگ الگ طاقت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ایک ہی متفقہ مرکزی جلوس نکالیں اور کسی ایک ہی متفقہ مقام پر اس جلوس کا اختتام کریں، اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور پانی کی سبیلوں کے انتظامات کو یقینی بنائیں۔ مذہبی منافرت پھیلانے والی تقاریر پر سختی سے پابندی عائد کریں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جلوس تعداد کا نہیں بلکہ کردار کا مظہر ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی عاشقِ رسول بنائے۔ آمین

متعلقہ پوسٹ