پانچ سالہ طالبان حکومت: افغانستان نے کیا پایا، کیا کھویا؟

IMG 20260816 WA1229

تحریر : خالد خان

15 اگست 2021 کو طالبان کے کابل پر قبضے کے ساتھ افغانستان کی سیاست، ریاست اور معاشرت نے ایک نئے دور میں قدم رکھا۔ 15 اگست 2026 کو طالبان کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہوگئے۔ پانچ سال اتنا طویل عرصہ ضرور ہے کہ کسی حکومت کو نعروں، نظریاتی وابستگیوں اور جذباتی پسند و ناپسند کے بجائے اس کی عملی کارکردگی سے پرکھا جاسکے۔ طالبان کے پانچ سالہ دور کا غیر جانب دار جائزہ بھی اسی اصول پر ہونا چاہیے کہ ان کے دعووں کو زمینی حقائق، اعدادوشمار، معیشت، امن و امان، تعلیم، صحت، انسانی حقوق، خواتین کی حیثیت، منشیات، انسانی بحران، حکمرانی، علاقائی تعلقات اور عالمی سطح پر افغانستان کی پوزیشن کے پیمانوں پر جانچا جائے۔ اس پیمانے پر سامنے آنے والی تصویر نہ مکمل کامیابی کی ہے نہ مکمل ناکامی کی؛ یہ ایک ایسی حکومت کی تصویر ہے جس نے بعض اہم شعبوں میں نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں، مگر ریاست سازی، انسانی ترقی، سیاسی شمولیت اور معاشی خوشحالی کے بنیادی امتحان ابھی باقی ہیں۔
طالبان کی سب سے بڑی کامیابی افغانستان کے وسیع جغرافیے پر مؤثر سیاسی اور انتظامی کنٹرول قائم کرنا اور دو دہائیوں کی بڑی جنگ کا خاتمہ ہے۔ 2001 سے 2021 تک افغانستان جس مسلسل جنگ، فضائی حملوں، خودکش دھماکوں، زمینی لڑائیوں اور مختلف مسلح قوتوں کے تصادم کا شکار رہا، اس کی وہ شدت اب موجود نہیں۔ عام افغان شہری کے لیے سڑکوں اور شہروں میں جنگی خطرہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے اور بہت سے افغان شہری آج اپنے آپ کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ پانچویں سالگرہ کے موقع پر کابل سے آنے والی رپورٹوں میں بھی شہریوں نے نسبتاً بہتر امن و امان کا اعتراف کیا، اگرچہ اسی کے ساتھ بے روزگاری، غربت اور تعلیم کے بحران کی شکایات بھی موجود ہیں۔
یہ کامیابی معمولی نہیں۔ ایک ایسی ریاست جس نے چالیس برس سے زیادہ عرصہ جنگ میں گزارا ہو، وہاں بڑے پیمانے کی جنگ کا خاتمہ بذاتِ خود انسانی زندگیوں کے لیے ایک بڑی نعمت ہے۔ طالبان اس کامیابی کو بجا طور پر اپنے حق میں پیش کرسکتے ہیں۔ لیکن امن صرف جنگ بند ہونے کا نام نہیں۔ پائیدار امن کے لیے قانون کی حکمرانی، انصاف، روزگار، سیاسی شمولیت، تعلیم، صحت اور مستقبل پر اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے۔ طالبان نے جنگ کے میدان کو بڑی حد تک خاموش کیا ہے، مگر ابھی یہ ثابت کرنا باقی ہے کہ وہ اس خاموشی کو ایک جامع اور پائیدار امن میں تبدیل کرسکتے ہیں۔
طالبان کی دوسری اہم کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں ریاستی نظم و نسق کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر منہدم نہیں ہونے دیا۔ سرکاری محصولات جمع ہورہے ہیں، مالیاتی نظام چل رہا ہے، افغان کرنسی برقرار ہے اور تجارت جاری ہے۔ 2021 میں غیر ملکی افواج کے انخلا اور عالمی امداد میں بڑے پیمانے پر کمی کے بعد جس معاشی انہدام کا خدشہ تھا، وہ مکمل طور پر واقع نہیں ہوا۔ عالمی بینک کے مطابق افغانستان کی حقیقی مجموعی پیداوار 2025 میں 4.8 فیصد بڑھی، جبکہ 2026 میں تقریباً 4 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ مگر اسی رپورٹ کا دوسرا پہلو زیادہ اہم ہے: 2025 میں فی کس مجموعی قومی پیداوار میں 5.6 فیصد کمی ہوئی، کیونکہ آبادی میں اضافے اور تقریباً 37 لاکھ افغانوں کی واپسی نے معاشی نمو کو پیچھے چھوڑ دیا۔ مارچ 2026 تک مہنگائی بھی 7.6 فیصد تک پہنچ چکی تھی، جس نے عام گھرانے کی قوتِ خرید پر مزید دباؤ ڈالا۔
یہ فرق انتہائی اہم ہے۔ مجموعی قومی پیداوار کا بڑھنا اور عام آدمی کا خوشحال ہونا ایک ہی چیز نہیں۔ افغانستان ایک انتہائی کمزور معاشی بنیاد سے بحالی کی کوشش کررہا ہے، آبادی بڑھ رہی ہے، لاکھوں افغان بیرون ملک سے واپس آرہے ہیں اور روزگار، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت کی رفتار ابھی آبادی کی ضروریات سے کم ہے۔ اس لیے طالبان کا یہ دعویٰ درست ہوسکتا ہے کہ انہوں نے معیشت کو مکمل تباہی سے بچایا اور محدود معاشی نمو پیدا کی، لیکن اس نمو کو وسیع پیمانے پر عوامی خوشحالی قرار دینا اعدادوشمار سے ثابت نہیں ہوتا۔
منشیات کے خلاف طالبان کی کارروائی ان کی نمایاں کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے اور اسے سیاسی اختلاف کے باوجود تسلیم کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کے مطابق افغانستان میں پوست کی کاشت 2022 کے تقریباً 232,000 ہیکٹر سے گھٹ کر 2025 میں صرف 10,200 ہیکٹر رہ گئی۔ یعنی چند برسوں میں کاشت میں تقریباً 96 فیصد کمی آئی۔ 2025 میں ممکنہ افیون کی پیداوار کا تخمینہ 296 ٹن تھا، جو 2024 کے مقابلے میں 32 فیصد کم تھا۔
یہ ایک غیر معمولی انتظامی کامیابی ہے کیونکہ پوست افغانستان کے دیہی علاقوں میں صرف منشیات نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی تھی۔ اس لیے پابندی کا دوسرا رخ بھی ہے۔ جب ایک کسان اپنی زیادہ آمدنی والی فصل سے محروم ہوجاتا ہے تو ریاست پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اسے قابلِ عمل متبادل فراہم کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں طالبان کی منشیات پالیسی کا اصل معاشی امتحان شروع ہوتا ہے۔ کسی غیر قانونی صنعت کو طاقت کے ذریعے بند کرنا ایک کام ہے، اس کی جگہ ایسی قانونی معیشت پیدا کرنا جس سے کسان کا گھر چل سکے، بالکل دوسرا کام ہے۔ طالبان نے پہلے مرحلے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے، مگر دوسرے مرحلے کی کامیابی ابھی پوری طرح ثابت نہیں ہوئی۔
طالبان اپنے اقتدار کو افغان خودمختاری کی بحالی بھی قرار دیتے ہیں۔ اس دعوے میں ایک حقیقی تاریخی پہلو موجود ہے۔ غیر ملکی جنگی افواج افغانستان سے نکل گئیں، سابقہ حکومت ختم ہوئی اور طالبان نے اپنی سیاسی قوت کے ذریعے اقتدار سنبھالا۔ لیکن خودمختاری صرف غیر ملکی فوجوں کی عدم موجودگی کا نام نہیں۔ حقیقی خودمختاری اس وقت مکمل ہوتی ہے جب ریاست اپنے شہریوں کو امن، انصاف، تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی خدمات اور عزتِ نفس فراہم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو۔ طالبان نے بیرونی فوجی موجودگی ختم ہونے کے بعد سیاسی اختیار حاصل کرلیا، مگر اب ان کے سامنے اصل امتحان ریاستی طاقت کو انسانی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔
ان پانچ برسوں کا سب سے سنگین انسانی پہلو خواتین اور لڑکیوں کی صورت حال ہے۔ افغانستان آج بھی دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو ثانوی تعلیم اور خواتین کو اعلیٰ تعلیم سے باضابطہ طور پر محروم رکھا گیا ہے۔ یونیسکو کے مطابق اگست 2026 تک تقریباً 24 لاکھ افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہوچکی ہیں، اور یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دو لاکھ زیادہ ہے۔ یونیسکو نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ پابندیاں برقرار رہیں تو 2030 تک ثانوی تعلیم سے محروم لڑکیوں کی تعداد تقریباً 40 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ صرف خواتین کے حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی معیشت اور انسانی سرمائے کا مسئلہ بھی ہے۔ یونیسکو کے مطابق موجودہ پابندیوں کے نتیجے میں 2030 تک افغانستان میں خواتین اساتذہ کی 11 ہزار سے زیادہ کمی پیدا ہوسکتی ہے، جبکہ دس سال کی عمر کے 90 فیصد سے زیادہ افغان بچے ایک بنیادی متن پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندی ایک ایسے ملک میں انسانی سرمائے کو مزید کمزور کرتی ہے جہاں پہلے ہی تعلیم، صحت اور فنی مہارتوں کی شدید ضرورت ہے۔ یونیسکو نے اندازہ لگایا ہے کہ خواتین کی تعلیم پر موجودہ پابندیوں سے طویل مدت میں افغانستان کو 9.6 ارب ڈالر تک کے معاشی نقصانات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
خواتین پر پابندیاں تعلیم تک محدود نہیں رہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کے حقوق، تعلیم، روزگار، نقل و حرکت، صحت اور عوامی زندگی سے متعلق 100 سے زیادہ پابندی والے احکامات اور ضوابط نافذ کیے جاچکے ہیں۔ اگست 2026 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل نصف سے زیادہ خواتین نے بتایا کہ وہ مہینے میں صرف ایک یا دو مرتبہ گھر سے باہر نکلتی ہیں، جبکہ خواتین کی تنظیموں کی ایک بڑی تعداد مالی مشکلات کے باعث بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
یہاں طالبان کے ماڈل کا ایک بنیادی تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک حکومت جو ریاستی نظم، خودمختاری اور معاشرتی استحکام کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے، وہ اپنی آبادی کے ایک بڑے حصے کی تعلیم، روزگار اور عوامی شرکت کو محدود کرکے اپنے ہی انسانی سرمائے کا بڑا حصہ غیر فعال کررہی ہے۔ اس پالیسی کی قیمت آج شاید پوری طرح نظر نہ آرہی ہو، لیکن آنے والی نسلوں کی تعلیم، روزگار، صحت اور معاشی پیداوار میں اس کے اثرات زیادہ واضح ہوسکتے ہیں۔
افغانستان کا انسانی بحران بھی طالبان حکومت کے پانچ سالہ ریکارڈ کا بنیادی حصہ ہے۔ یونیسف کے مطابق 2026 میں تقریباً 21.9 ملین افغان، جن میں 11.6 ملین بچے شامل ہیں، انسانی امداد کے محتاج ہیں۔ یہ تعداد افغانستان کی آبادی کے تقریباً نصف کے برابر ہے۔
بچوں کی غذائی حالت اس بحران کی سنگینی کو مزید واضح کرتی ہے۔ یونیسف نے جولائی 2026 میں بتایا کہ پانچ سال سے کم عمر 37 لاکھ بچے غذائی قلت کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ مختلف صوبوں میں صورت حال مزید خراب ہوئی ہے اور دو سال سے کم عمر بچے غذائی قلت کے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ یہ اعداد کسی بھی حکومت کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہیں، کیونکہ بچے کسی ریاست کی موجودہ کارکردگی ہی نہیں بلکہ اس کے مستقبل کا بھی پیمانہ ہوتے ہیں۔
اس کے باوجود تمام انسانی بحران کا ذمہ دار صرف طالبان حکومت کو قرار دینا بھی غیر جانب دارانہ تجزیہ نہیں ہوگا۔ افغانستان چار دہائیوں سے زیادہ جنگ، خشک سالی، زلزلوں، سیلابوں، موسمیاتی تبدیلی، کم ہوتی بیرونی امداد، کمزور بنیادی ڈھانچے اور بڑے پیمانے پر مہاجرین کی واپسی کا سامنا کررہا ہے۔ 2025 اور 2026 میں ایران اور پاکستان سمیت پڑوسی ممالک سے لاکھوں افغانوں کی واپسی نے پہلے سے کمزور روزگار، رہائش، صحت اور تعلیم کے نظام پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔ عالمی بینک نے بھی تقریباً 37 لاکھ واپس آنے والے افغانوں کو فی کس آمدنی میں کمی کے اہم عوامل میں شمار کیا ہے۔ اس لیے بحران کی جڑیں طالبان سے پہلے کی تاریخ میں بھی موجود ہیں، لیکن آج افغانستان کے انتظام کی ذمہ داری طالبان پر ہے اور بحرانوں کے حل کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔
افغان معیشت کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ محدود معاشی نمو کو روزگار، آمدنی، سرمایہ کاری اور انسانی ترقی میں کیسے تبدیل کیا جائے۔ اگر 2025 میں مجموعی پیداوار 4.8 فیصد بڑھے مگر فی کس آمدنی 5.6 فیصد کم ہوجائے تو یہ اعداد خود بتاتے ہیں کہ معاشی نمو ابھی عام شہری کی زندگی بدلنے کے لیے کافی نہیں۔ 2026 میں متوقع تقریباً 4 فیصد نمو بھی اس وقت تک بنیادی کامیابی نہیں بن سکتی جب تک اس کے ساتھ روزگار، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری اور حقیقی آمدنی میں اضافہ نہ ہو۔
افغانستان کو بیرونی مالیاتی نظام تک محدود رسائی، کم سرمایہ کاری، کمزور صنعتی بنیاد، امداد پر انحصار اور خواتین کی معاشی سرگرمی پر پابندی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ طالبان نے ریاست کو چلانے کی انتظامی صلاحیت ضرور دکھائی ہے، لیکن ریاست چلانا اور معیشت کو ترقی دینا دو مختلف صلاحیتیں ہیں۔ محصولات جمع کرنا، سرحدی تجارت منظم کرنا اور بجٹ چلانا ضروری ہے، مگر ایک پائیدار معیشت کے لیے تعلیم یافتہ افرادی قوت، آزاد اور قابلِ اعتماد ادارے، سرمایہ کاری، جدید زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی اور عالمی تجارت میں مؤثر شمولیت بھی ضروری ہوتی ہے۔
امن و امان کی تصویر بھی دو رخی ہے۔ افغانستان کے اندر بڑی جنگ کا خاتمہ طالبان کی واضح کامیابی ہے، لیکن دہشت گردی کا مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ داعش خراسان، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مسلح تنظیموں کی موجودگی پر اقوام متحدہ مسلسل تشویش ظاہر کرتا رہا ہے۔ جون 2026 میں سلامتی کونسل نے بھی افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کے علاقائی اثرات پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا۔
پاکستان کے لیے یہ مسئلہ خاص طور پر اہم ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتی ہے، جبکہ طالبان حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے اور افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ٹی ٹی پی سمیت افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے مسئلے کو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی سے جوڑا ہے۔ اگست 2026 میں پاکستان میں ہونے والے ایک دہشت گرد حملے کی ذمہ داری بھی ٹی ٹی پی نے قبول کی، جس پر سلامتی کونسل نے مذمت کی۔
یہاں طالبان حکومت کے لیے ایک مشکل سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر افغانستان کے اندر جنگ ختم ہوگئی ہے تو کیا افغانستان اپنے پڑوسیوں کے لیے بھی قابلِ اعتماد سلامتی کا ذریعہ بن چکا ہے؟ ابھی جواب مکمل طور پر ہاں میں نہیں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی، سرحدی جھڑپیں اور دہشت گردی کے الزامات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ داخلی استحکام ابھی علاقائی سلامتی میں مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوا۔
اس کے باوجود افغانستان کے مستقبل میں ایک بہت بڑا علاقائی معاشی امکان موجود ہے۔ اگر ملک میں مستقل امن قائم رہے تو افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت، توانائی، سڑکوں، ریلوے، معدنیات اور علاقائی رابطوں کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے مستحکم افغانستان ایک اقتصادی موقع ہے؛ لیکن کمزور یا غیر محفوظ افغانستان دہشت گردی، منشیات، مہاجرت اور سرحدی تنازعات کے ذریعے پورے خطے کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔ طالبان کے اگلے مرحلے کی کامیابی کا ایک بڑا پیمانہ یہی ہوگا کہ وہ افغانستان کو جغرافیائی محلِ وقوع کی نعمت بناتے ہیں یا بدستور علاقائی سلامتی کا مسئلہ رہنے دیتے ہیں۔
سفارتی محاذ پر طالبان نے پانچ برس میں کچھ اہم پیش رفت ضرور کی ہے۔ روس نے جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا اور یوں 2021 کے بعد ایسا کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔ اگست 2026 تک روس ہی واحد ملک تھا جس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا، اگرچہ چین، ایران، پاکستان، بھارت، ترکی اور وسطی ایشیائی ممالک سمیت متعدد ریاستیں کابل کے ساتھ مختلف سطحوں پر سفارتی اور عملی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یہ طالبان کی سفارتی کامیابی ہے، مگر اسے مکمل عالمی قبولیت نہیں کہا جاسکتا۔ عملی رابطہ اور باضابطہ شناخت دو الگ چیزیں ہیں۔ طالبان نے اپنی بین الاقوامی تنہائی کم کی ہے، لیکن ابھی عالمی سیاسی، مالیاتی اور سفارتی نظام میں مکمل انضمام حاصل نہیں کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ خواتین اور لڑکیوں سے متعلق پالیسیاں بھی ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک طالبان کے ساتھ عملی تعلقات رکھتے ہیں، لیکن ان کے حکومتی ماڈل کو مکمل سیاسی قبولیت دینے سے گریز کرتے ہیں۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا طالبان کا حکومتی ماڈل کسی دوسرے اسلامی ملک کے لیے کشش رکھتا ہے؟ اس سوال کا جواب سادہ ہاں یا ناں میں نہیں دیا جاسکتا۔ طالبان نے یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ ایک مذہبی تحریک طویل جنگ لڑ سکتی ہے، ایک بڑی عالمی فوجی طاقت کے مقابلے میں بیس سال تک مزاحمت کرسکتی ہے، اقتدار حاصل کرسکتی ہے اور پھر پانچ سال تک اپنے اقتدار کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ بعض مذہبی اور قدامت پسند حلقوں کے لیے یہ ایک غیر معمولی سیاسی اور نظریاتی کامیابی ہوسکتی ہے۔ جنگ سے تھکے ہوئے معاشروں کے لیے طالبان کا مرکزی نظم اور بڑی مسلح لڑائی کا خاتمہ بھی قابلِ توجہ ہوسکتا ہے۔
لیکن کسی حکومتی ماڈل کی کشش صرف اقتدار حاصل کرنے یا اسے برقرار رکھنے سے نہیں ناپی جاتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ ماڈل معاشرے کو کیا دیتا ہے۔ کیا وہ تعلیم یافتہ نسل پیدا کرتا ہے؟ کیا وہ روزگار پیدا کرتا ہے؟ کیا وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو آگے بڑھاتا ہے؟ کیا وہ خواتین کی صلاحیتوں کو قومی ترقی میں استعمال کرتا ہے؟ کیا وہ اقلیتوں اور مختلف سیاسی و فکری گروہوں کو ریاست کا برابر کا حصہ سمجھتا ہے؟ کیا وہ قانون کی حکمرانی قائم کرتا ہے؟ کیا وہ سرمایہ کاری لاتا ہے؟ کیا وہ اپنے پڑوسیوں کے لیے قابلِ اعتماد سلامتی فراہم کرتا ہے؟ کیا وہ نوجوانوں کو اپنے ملک میں مستقبل بنانے کی امید دیتا ہے؟
ان پیمانوں پر طالبان کا تجربہ ابھی ایسا نمونہ پیش نہیں کرتا جسے دوسرے اسلامی ممالک کے لیے جامع اور قابلِ تقلید حکومتی ماڈل قرار دیا جاسکے۔
یہاں اسلام اور طالبان کے مخصوص سیاسی تجربے میں فرق کرنا بھی ضروری ہے۔ طالبان اپنے نظام کو اسلامی امارت کہتے ہیں، لیکن کسی حکومت کا اپنے نظام کو اسلامی قرار دینا خودبخود اس کے ہر سیاسی، انتظامی یا قانونی فیصلے کو مذہبی طور پر درست اور ناقابلِ تنقید نہیں بنا دیتا۔ اسلامی تاریخ میں حکومت، قانون، شوریٰ، انتظامیہ اور معاشرت کے مختلف تجربات موجود رہے ہیں۔ اس لیے طالبان کے ماڈل کا علمی جائزہ مذہبی اصطلاحات کے بجائے ان اصولوں پر بھی ہونا چاہیے جنہیں ہر مؤثر ریاست کے لیے بنیادی سمجھا جاتا ہے: عدل، مشاورت، جواب دہی، انسانی وقار، علم، معاشی انصاف، قانون کی بالادستی اور ریاستی کارکردگی۔
طالبان کے پانچ سالہ ریکارڈ میں کامیابیاں بھی واضح ہیں اور ناکامیاں بھی۔ اقتدار کا استحکام، پورے ملک پر مؤثر کنٹرول، بڑی جنگ کا خاتمہ، بنیادی ریاستی نظم کا برقرار رہنا اور پوست کی کاشت میں تقریباً 96 فیصد کمی حقیقی کامیابیاں ہیں۔ ان کامیابیوں کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ طالبان کی دوسری پالیسیاں متنازع ہیں۔ اسی طرح خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، خواتین کی عوامی اور معاشی شرکت میں شدید کمی، انسانی امداد پر بڑے پیمانے کا انحصار، فی کس آمدنی میں کمی، بچوں میں غذائی قلت، دہشت گرد گروہوں کا مسئلہ اور محدود عالمی قبولیت بھی حقیقی ناکامیاں یا سنگین چیلنجز ہیں جنہیں صرف طالبان مخالف سیاسی موقف کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتا۔
طالبان حکومت کا پانچ سالہ تجربہ اس لیے ایک دلچسپ تاریخی تضاد بن چکا ہے۔ انہوں نے افغانستان کو بڑی جنگ سے نکالا، مگر ابھی اسے وسیع پیمانے کی خوشحالی تک نہیں پہنچایا۔ انہوں نے سیاسی استحکام پیدا کیا، مگر سیاسی شمولیت پیدا نہیں کی۔ انہوں نے معیشت کو مکمل انہدام سے بچایا، مگر فی کس آمدنی میں کمی کو روک نہیں سکے۔ انہوں نے عالمی تنہائی کم کی، مگر مکمل عالمی قبولیت حاصل نہیں کی۔ انہوں نے مرکزی ریاستی اختیار مضبوط کیا، مگر اسی ریاست میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی کے حوالے سے ایسے سخت سوالات پیدا کیے جو عالمی سطح پر ان کے نظام کی قبولیت کو محدود کررہے ہیں۔
اس پورے معاملے میں سب سے اہم سوال نظریاتی نہیں بلکہ انسانی ہے۔ ایک افغان بچہ حکومت کو عالمی سفارت کاری یا سیاسی نعروں کے ذریعے نہیں دیکھتا؛ وہ اسے خوراک، اسکول، علاج اور تحفظ کے ذریعے محسوس کرتا ہے۔ ایک افغان عورت کے لیے ریاست کا مطلب یہ ہے کہ وہ پڑھ سکتی ہے یا نہیں، کام کرسکتی ہے یا نہیں، علاج کے لیے آزادانہ نقل و حرکت کرسکتی ہے یا نہیں اور اپنی زندگی کے فیصلوں میں کتنا اختیار رکھتی ہے۔ ایک کسان کے لیے ریاست کا مطلب اس کی زمین اور آمدنی ہے۔ ایک نوجوان کے لیے ریاست کا مطلب روزگار اور مستقبل ہے۔ ایک عام خاندان کے لیے ریاست کا مطلب قانون، انصاف، بنیادی خدمات اور یہ امید ہے کہ اسے اپنے بچوں کا مستقبل بنانے کے لیے ملک چھوڑنا نہیں پڑے گا۔
اسی لیے طالبان کے پانچ سالہ دور کا جائزہ صرف اس سوال سے نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے امریکہ کو شکست دی یا نہیں۔ انہوں نے غیر ملکی فوجی انخلا کے بعد اقتدار حاصل کیا، یہ تاریخی حقیقت ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے اقتدار برقرار رکھا اور افغانستان میں بڑی جنگ ختم کردی۔ لیکن کسی غیر ملکی طاقت کو شکست دینا اور ایک کامیاب جدید ریاست تعمیر کرنا دو الگ امتحان ہیں۔
پانچ سال کا مجموعی حساب اس لیے نہ فتح کا جشن ہے نہ شکست کا اعلان۔ طالبان نے سیاسی بقا، اقتدار کے استحکام، علاقائی کنٹرول اور جنگ کے خاتمے کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بعض انتظامی شعبوں میں ریاستی صلاحیت بھی دکھائی ہے اور منشیات کے خلاف ایسی کارروائی کی ہے جس کے نتائج عالمی ادارے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن انسانی ترقی، خواتین کی تعلیم، سیاسی شمولیت، وسیع روزگار، فی کس آمدنی، پائیدار معاشی خود کفالت اور مکمل علاقائی و عالمی قبولیت کے امتحان میں سفر ابھی ادھورا ہے۔
اعدادوشمار اس ادھورے پن کو بہت واضح کرتے ہیں: 2026 میں 21.9 ملین افغان انسانی امداد کے محتاج ہیں، 37 لاکھ پانچ سال سے کم عمر بچے غذائی قلت کے شدید خطرے سے دوچار ہیں، تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں، 2025 میں مجموعی معیشت 4.8 فیصد بڑھی مگر فی کس آمدنی 5.6 فیصد کم ہوئی، اور 2025 میں پوست کی کاشت 10,200 ہیکٹر تک محدود ہوگئی۔ یہ اعداد ایک ایسی ریاست کی تصویر پیش کرتے ہیں جو جنگ کے میدان میں بہت آگے نکل آئی ہے، مگر انسانی ترقی کے میدان میں ابھی بہت پیچھے ہے۔
آخرکار افغانستان کے پانچ سالہ طالبان دور کا فیصلہ واشنگٹن، اسلام آباد، ماسکو یا کابل کے سیاسی دفاتر میں نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا اصل فیصلہ افغان عوام کی زندگی کرے گی۔
سوال بہت سادہ ہے مگر اس کا جواب پورے نظام کی حقیقت سامنے لے آتا ہے: کیا آج ایک افغان بچہ، ایک افغان عورت، ایک کسان، ایک مزدور، ایک طالب علم اور ایک عام شہری پانچ سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، زیادہ تعلیم یافتہ، زیادہ صحت مند، زیادہ خوشحال، زیادہ آزاد اور زیادہ باوقار زندگی گزار رہا ہے؟
دستیاب شواہد کا جواب مکمل طور پر ہاں یا مکمل طور پر ناں نہیں ہے۔
سڑکیں زیادہ محفوظ ہیں۔ بڑی جنگ ختم ہوچکی ہے۔ ریاست قائم ہے۔ معیشت دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ پوست کی کاشت تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے۔
لیکن لاکھوں لوگ غربت اور انسانی امداد کے محتاج ہیں، لاکھوں لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں، فی کس آمدنی کم ہوئی ہے، بچوں میں غذائی قلت شدید ہے، دہشت گردی کا مسئلہ ختم نہیں ہوا اور افغانستان ابھی تک سلامتی کو وسیع انسانی ترقی اور معاشی مواقع میں مکمل طور پر تبدیل نہیں کرسکا۔
اس لیے طالبان نے سیاسی بقا اور اقتدار کے استحکام کا امتحان کامیابی سے پاس کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ افغانستان پر مؤثر مرکزی اختیار قائم رکھ سکتے ہیں۔
مگر انسانی ترقی، جامع حکمرانی، معاشی خود کفالت اور پائیدار خوشحالی کا کہیں بڑا امتحان ابھی باقی ہے۔
یہ طالبان کے حق میں فیصلہ ہے نہ ان کے خلاف۔ یہ صرف پانچ برس کے دستیاب شواہد سے نکلنے والا وہ نتیجہ ہے جسے اعدادوشمار، انسانی حالات اور زمینی حقیقت اس وقت سب سے زیادہ دیانت داری سے بیان کرتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ