مظفرآباد/اسلام آباد — حکومت نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی کشمیر تنازعے میں ثالثی کی پیشکش کو خوش آمدید کہا ہے۔
ایوان میں خطاب کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم نے کہا کہ "مہاجرین کو حق رائے دہی سے محروم کرنا تحریکِ آزادی کے بنیادی مقصد سے انحراف ہے” اور اس معاملے کو فوری توجہ کا مستحق قرار دیا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کالعدم کمیٹی کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کا اصل مقصد آزاد کشمیر میں آنے والے انتخابات کو سبوتاژ کرنا ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی پیشکش کشمیر سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتی ہے، تاہم مہاجرین کے ووٹ کا تنازعہ انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

