انقرہ/غزہ — ترکیہ نے غزہ میں امن فوج بھیجنے کی تیاری ظاہر کی ہے جبکہ اسرائیل نے اس اقدام کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
ترک حکام کے مطابق انقرہ غزہ میں امن و استحکام کے قیام کے لیے فوجی دستے بھیجنے پر غور کر رہا ہے اور اس حوالے سے متعلقہ فریقوں سے مشاورت جاری ہے۔ ترکیہ کا موقف ہے کہ غزہ میں بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی خطے میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے ترکیہ کی اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی صورت غزہ میں ترک فوجی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا۔ اسرائیلی حکام نے اسے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کھل کر فلسطینیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو جنگی جرائم قرار دیتے رہے ہیں۔
عالمی برادری اس تازہ پیش رفت کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور خدشہ ہے کہ اس تنازع سے خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

