اسلام آباد (محمد سلیم سے
) — وکلا ایکشن کمیٹی نے عدالتی تعطیلات کے اختتام کے بعد ملک گیر وکلا تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس تحریک کی سربراہی علی احمد کرد کریں گے۔
سپریم کورٹ کے سامنے منعقدہ پریس کانفرنس میں حامد خان ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا نے بتایا کہ علی احمد کرد کی سربراہی میں تحریک چلانے کی قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔ قرارداد کا متن میڈیا کے سامنے پڑھ کر سنایا گیا۔
قرارداد کے اہم نکات:
ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کا موجودہ طریقہ کار انتہائی تباہ کن ہے۔
ججوں کے انٹرویوز کا عمل ایک مذاق بن چکا ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صورتحال پر گہری تشویش۔
کشمیر میں ماضی کی غلطیوں کو دہرایا جا رہا ہے۔
ایمان مزاری، ہادی چٹھہ، ماہرنگ بلوچ اور بانی پی ٹی آئی سمیت مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے قید رکھا گیا ہے۔
بار کونسلز کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی مذمت۔
علی احمد کرد نے کہا کہ ساتھیوں کے اصرار پر انہوں نے بادلِ نخواستہ تحریک کی سربراہی قبول کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب معاملہ صرف 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم تک محدود نہیں رہا بلکہ عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔
علی احمد کرد نے اعلان کیا کہ تحریک میں عوام کو بھی شامل کیا جائے گا اور پہلا عوامی جلسہ خیبر پختونخوا میں منعقد ہوگا۔ اس کے علاوہ لندن میں بھی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ ایک پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا۔
وکلا نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی، آئینی بالادستی اور عوامی حقوق کی حفاظت کے لیے یہ تحریک جاری رہے گی۔

