فاکس ویگن کا جرمن پلانٹ بند کرنے کا منصوبہ، ۴۰ ہزار ملازمین خطرے میں

folks d


ووولفسبرگ/برلن — جرمن آٹو میکر فاکس ویگن نے ذرائع کے مطابق آئندہ پانچ سالوں میں Zwickau اور Emden کی فیکٹریوں میں گاڑیوں کی پیداوار مکمل طور پر ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً ۴۰ ہزار ملازمین کی نوکریوں کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
کمپنی متعدد جرمن کارخانوں میں ایک بڑی تنظیمی تبدیلی کی تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت پیداوار بند ہونے کا امکان ہے۔ ہفتہ وار جرمن جریدے ڈیر اشپیگل نے کمپنی کے نگران بورڈ سے وابستہ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر اولیور بلوم کا ارادہ ہے کہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران Zwickau اور Emden پلانٹس میں گاڑیوں کی تیاری بند کر دی جائے۔
رپورٹ کے مطابق ہینوور میں کمرشل گاڑیوں کی فیکٹری سنہ ۲۰۳۲ء میں، جبکہ آڈی کا نیکارسولم پلانٹ سنہ ۲۰۲۴ء میں بند ہو جائے گا۔ میگزین کے مطابق ان چاروں مقامات پر مجموعی طور پر تقریباً ۴۰ ہزار افراد ملازمت کرتے ہیں۔ سی ای او اولیور بلوم کا ہدف سنہ ۲۰۳۰ء تک پوری کمپنی میں مجموعی طور پر ۵۰ ہزار نوکریاں ختم کرنا بھی ہے۔
اس دوران نگران بورڈ کے ترجمان اور بورڈ میں شامل مزدور نمائندے، دونوں نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق یہ تجاویز دنیا کی دوسری بڑی آٹو ساز کمپنی کی تاریخ میں اب تک کی سب سے بنیادی تبدیلیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان تجاویز پر جمعرات کے روز وولفسبرگ میں منعقدہ نگران بورڈ کے اجلاس میں غور کیا جانا تھا۔ جرمنی کی طاقتور صنعتی یونین آئی جی میٹیل نے فوری طور پر ان منصوبوں کی سخت مذمت کی، اور بورڈ اجلاس کے دوران وولفسبرگ میں ایک احتجاجی ریلی کا بھی اہتمام کیا گیا۔
جدید ٹیکنالوجی سے لیس الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث روایتی پیٹرول گاڑیوں کو شدید مسابقت کا سامنا ہے، جس میں سب سے بڑا حریف چین ہے، جس کی سستی اور جدید الیکٹرک کاروں نے یورپی بازار کے ایک بڑے حصے پر اپنا قبضہ جما لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی کار ساز کمپنیوں کو شدید مندی کا سامنا ہے، جس کی ایک نمایاں مثال فاکس ویگن خود ہے۔

متعلقہ پوسٹ