ملک کوئی دھرم شالہ نہیں، وزارت کو نہیں معلوم ’دراندازوں‘ کی تعداد

1787782820 Woman Immigrants in Prison Illustration Pariplab The Wire Amit Shah


وزیر داخلہ امت شاہ نے انٹلی جنس بیورو کے ایک پروگرام میں دہرایا کہ یہ ملک کوئی دھرم شالہ نہیں ہے اور یہاں رہنے کا حق صرف شہریوں کو حاصل ہے۔ درانداز ملک کی سلامتی اور معیشت کے لیے خطرہ ہیں اور وہ غیر فطری آبادیاتی تبدیلیوں کو جنم دیتے ہیں۔ جنوری 2026 میں امت شاہ کی سربراہی والی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اس کے پاس ملک بھر میں آئے ’دراندازوں‘ سے متعلق کوئی مرکزی ڈیٹا نہیں ہے۔

Woman Immigrants in Prison Illustration Pariplab The Wire Amit Shah

وزارت داخلہ کے پاس ڈیٹا نہ ہونے کا یہ جواب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر داخلہ امت شاہ نہ صرف آسام بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بار بار ’دراندازوں‘ کی بڑی تعداد کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ فوٹو: پی ٹی آئی / السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر

نئی دہلی: وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل (25 اگست) کو کہا کہ نریندر مودی حکومت نے ملک کو ’بہت کم وقت میں‘ ’غیر قانونی دراندازی‘ سے پاک کرنے کا ہدف طے کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران سرحدی ریاستوں سے رابطہ کیا ہے اور سرحدی سلامتی کے حوالے سے چار نکاتی حکمت عملی پر مشتمل اپنا دستاویز ان کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، مرکز کی تیار کردہ اس پالیسی میں سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے سرحدوں پر تعینات فورسز، ریاستی اور ضلع انتظامیہ، حکومت ہند کے متعلقہ محکموں اور مقامی شہریوں کو اہم شراکت دار بنایا گیا ہے۔

خفیہ بیوروکی جانب سے منعقد کیے گئے نیشنل سکیورٹی اسٹریٹجی کانفرنس (این ایس ایس سی) کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ، ’یہ ملک کوئی دھرم شالہ نہیں ہے اور یہاں رہنے کا حق صرف شہریوں کو ہے۔‘

انہوں نے کہا،’درانداز ملک کی سلامتی اور معیشت کے لیے خطرہ ہیں اور وہ غیر فطری آبادیاتی تبدیلیوں کو جنم دیتے ہیں۔‘

اس پروگرام میں سینٹرل سکیورٹی ایجنسیوں اور فورسز، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی پولیس اور انٹلی جنس ایجنسیوں کے 850 سے زائد افسران نے شرکت کی۔

این ایس ایس سی کا مقصد اگلے 15 سے 20 سالوں کے دوران سامنے آئے سکیورٹی رجحانات اور چیلنجز کا اندازہ لگانا اور ان سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنا ہے۔ شاہ نے کہا کہ چیلنجز کی شناخت ان کے بڑے بحران میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی کر کے انہیں ختم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے افسران سے کہا،’ایسا ماحولیاتی نظام تیار کرکے ہم ایک محفوظ، دراندازی سے پاک اور منشیات سے پاک ہندوستان بنانے کے اہل ہوں گے۔‘

کانفرنس میں زمینی سطح پر کام کرنے والے نوجوان افسران کے ساتھ تجربہ کار اور سینئر افسران بھی موجود تھے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے ہدف کا ذکر کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ اس کے لیے پہلی شرط ملک کی داخلی سلامتی کو اور مضبوط بنانا ہے۔

شاہ نے ریاستی پولیس فورسز، سینٹرل ایجنسیوں اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تین بڑے حساس علاقوں – جموں و کشمیر، بائیں بازو کی انتہاپسندی سے متاثرہ علاقے اور شمال-مشرقی ہندوستان- سے متعلق چیلنجز کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سابقہ حکومتوں نے ان مسائل کے سنگین شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی ان کا اندازہ لگا لیا ہوتا تو ملک کو کئی دہائیوں تک ان کے منفی اثرات نہیں جھیلنے پڑتے۔

وزیرِ داخلہ نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے نیٹ ورک کو ستمبر 2022 میں کئی ریاستوں میں کی گئی چھاپے ماری کے دوران ’ایک ہی رات میں‘ تباہ کیے جانے اور اس کے بعد تنظیم پر پابندی عائد کیے جانے کو مرکز اور ریاست کے درمیان تال میل کی ایک بہترین مثال قرار دیا۔

شاہ نے ملک کے پہلے انسداد دہشت گردی کے نظریے ’پرہار‘کو ایک دستاویز تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد ’دہشت گردی کا خاتمہ اور دہشت گرد نیٹ ورک کو تباہ کرنا‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے بھگوڑوں کے خلاف مہم کو بھی مضبوط کیا ہے اور 2019 سے 2026 کے درمیان مختلف ممالک سے 274 بھگوڑوں کو ہندوستام واپس لایا گیا ہے۔ شاہ نے کہا، ’تمام ریاستوں کو یہ ہدف رکھنا چاہیے کہ بھگوڑوں کو واپس لایا جائے تاکہ وہ یہاں قانون کا سامنا کریں۔‘

شاہ نے کہا کہ عالمی عدم استحکام، توانائی کی سلامتی کا فقدان، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور سائبر ذرائع سے پھیلنے والی بڑھتی ہوئی انتہاپسندانہ پروپیگنڈا سرگرمیاں بڑے چیلنجز کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی سکیورٹی پالیسی میں ان تمام چیلنجز کو مدنظر رکھا جانا چاہیے اور ان سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کا ہدف ہونا چاہیے۔

وزیرِ داخلہ نے حالیہ دنوں میں منشیات کے خطرے کو ختم کرنے پر بھی خصوصی زور دیا ہے۔ انہوں نے ملک کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے ریاستوں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

شاہ نے افسران سے سی سی ٹی این ایس،آئی سی جے ایس، این ٹی جی آر آئی ڈی اور این اے ایف آئی ایس کے مربوط ڈیٹا بینک کو استعمال کرنے کے لیے بھی کہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا کے انضمام، تجزیے اور اے آئی  کی مدد سے جرائم کے طور-طریقوں کی شناخت کرکے قابل عمل انٹلی جنس تیار کی جانی چاہیے، تاکہ مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز کو پہلے ہی روکا جا سکے۔

حکومت کے پاس ’دراندازوں‘ کا ڈیٹا نہیں

غور طلب ہے کہ اس سے قبل دی وائر نے فروری 2026 میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امت شاہ کی سربراہی والی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ’دراندازوں‘ کے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

جنوری 2026 میں وزارت داخلہ نے ایک آر ٹی آئی کے جواب میں کہا تھا کہ اس کے پاس  ملک بھر میں ’دراندازوں‘ سے متعلق کوئی مرکزی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔

وزارت نے واضح کیا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت، گرفتاری اور ملک بدری کی ذمہ داری ریاستوں کو سونپی گئی ہے۔ یعنی مرکز نے ڈیٹا کی ذمہ داری ریاستوں پر ڈالی، جبکہ اب ریاستی حکومتیں بھی جانکاری دینے سے انکار کر رہی ہیں۔

اس کے علاوہ آسام حکومت نے بھی ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں کہا تھا کہ اس کے پاس دراندازوں کا ڈیٹا مونہیں ہے۔

آسام حکومت کے محکمہ داخلہ و سیاسی امور نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ مطلوبہ معلومات اس کے پاس نہیں ہے، آسام پولیس بارڈر آرگنائزیشن کے پاس ہیں۔ ساتھ ہی محکمہ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ آسام پولیس بارڈر آرگنائزیشن کو آر ٹی آئی ایکٹ 2005 کی دفعہ 24(4) کے تحت معلومات فراہم کرنے سے استثنیٰ حاصل ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ