تہران/مسقط: ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک نئے عارضی راستے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ اس اہم سمندری گزرگاہ کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
الجزیرہ کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان بات چیت کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے ایک عارضی راستہ طے کیا گیا ہے، جس کا مقصد موجودہ صورتحال میں محدود پیمانے پر بحری آمدورفت کو ممکن بنانا ہے۔
عہدیدار کے مطابق آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک امریکہ جون میں ہونے والے عبوری امن معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔ ایران کا موقف ہے کہ امریکہ کو عبوری معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا، جس کے بعد ہی مکمل بحری آمدورفت پر پیش رفت ممکن ہوگی۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک جانے والے تیل اور توانائی کی مصنوعات کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس عارضی اتفاق کو خطے میں بحری آمدورفت معمول پر لانے کی جانب ایک محدود مگر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے بعض تجارتی جہازوں کو نسبتاً محفوظ راستے سے گزرنے کا موقع مل سکے گا۔ تاہم مکمل بحالی امریکہ کے وعدوں کی تکمیل سے مشروط ہونے کے باعث صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔
حالیہ دنوں ایران، عمان مذاکرات کی خبروں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید ہوئی کہ یہ اہم سمندری راستہ دوبارہ مکمل طور پر کھل سکتا ہے۔

