سابق مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل اور بی جے پی کے سینئر رہنما مرلی منوہر جوشی نے تعلیمی نظام کے حوالے سے مودی حکومت کی پالیسیوں پر بڑے سوال اٹھائے ہیں۔ ایک ہندی روزنامے کو دیے انٹرویو میں انہوں نے تعلیمی بجٹ میں کمی، سرکاری اسکولوں کے بند ہونے، نجکاری، پیپر لیک اور بدعنوانی کے معاملے میں حکومت کی ترجیحات کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بائیں سے- مرلی منوہر جوشی اور نریندر مودی۔ (تصویر: فیس بک/drmurlimjoshi)
’حکومت خود گھوٹالے کر رہی ہے۔‘
’حکومت کی ترجیحات میں تعلیم نہیں ہے۔ بجٹ گھٹتا جا رہا ہے۔‘
’وکست بھارت میں ’وکست‘کا مطلب کیا ہے؟‘
’آپ نے اسکول تو کھول دیااور استاد ہے نہیں، تو طالبعلم کیا کرے گا؟‘
’آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم کالج کھول رہے ہیں… لیکن نوکریاں کہاں ہیں؟‘
’واجپائی جی کےزمانے میں پیپر لیک کیوں نہیں ہوا؟‘
’بڑے اداروں میں ہی طلبہ کی خودکشی کے معاملے کیوں ہو رہے ہیں؟‘
یہ باتیں اور سوال بی جے پی کے بے حدسینئر رہنما ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کے ہیں۔ ہندی روزنامہ ’امر اجالا‘ کے مشاورتی مدیر ونود اگنی ہوتری نے سابق مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل مرلی منوہر جوشی کا ایک لمبا انٹرویو کیا ہے۔
واضح ہو کہ نریندر مودی کے مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد، بی جے پی کے سابق صدر رہ چکے جوشی کو بی جے پی کے ’مارگ درشک منڈل‘ میں بھیج دیا گیا تھا اور اس طرح انہیں سرگرم سیاست سے دور کر دیا گیا۔ سیاسی صحافت کی قدرے سخت زبان میں کہا جائے تو جوشی کو کنارے لگا دیا گیا تھا۔
’امر اجالا‘ کو دیے گئے اس انٹرویو میں جوشی نے مودی حکومت کی تعلیمی پالیسی اور اس کی ترجیحات پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی بجٹ میں کمی، سرکاری اسکولوں کے بند ہونے، تعلیم کی بڑھتی ہوئی نجکاری، پیپر لیک اور بڑےپیمانے پر بدعنوانی کے حوالے سے حکومت اور اس کے نظام پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ ان کے جوابوں میں موجودہ نظام کی پالیسی ترجیحات اور اس کی سمت ورفتارپر بھی سخت تنقید نظر آتی ہے۔
جوشی نے پیپر لیک کے مسئلے کو صرف امتحانات کے نظام کی خامی تسلیم کرنے کے بجائے اسے معاشرے اور اقتدار میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی سے جوڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگوں کو ہر جگہ پیسہ اور بدعنوانی کا بول بالا نظر آتا ہے، تو وہ بھی غلط راستہ اختیار کرنے لگتے ہیں، اور اس کے لیے بنیادی طور پر حکومت اور اس کے نظام کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔
پیپر لیک: ’ ہم نےہی بنایا ہے یہ راستہ ، پھر آپ پوچھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟‘
پیپر لیک ہو رہے ہیں، اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ اس سوال پر جوشی نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ طے ہی نہیں ہے کہ تعلیمی شعبے میں ہمیں آخر جانا کہاں ہے۔
ان کے مطابق، تعلیم کو روزگار سے جوڑنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، ’تعلیم معاشی طور پر مفید ہونی چاہیے۔ اگر تعلیم معاشی طور پر مفید نہیں ہے تو پھر وہ کیسی تعلیم ہے؟‘
جوشی نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ دہلی میں ایم اے پاس شخص میونسپل کارپوریشن میں نوکری کر رہا ہے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والا شخص بھی میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’مجھے ایک بار یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی کہ ایک صفائی کارکن بی ایڈ تھا۔ وہ ٹھیکے پر 25 سے 30 ہزار روپے کی نوکری کر رہا تھا۔ تو یہ کہاں جا رہا ہے معاملہ؟‘
انہوں نے کہا کہ ایک طرف کالج کھولے جا رہے ہیں، لیکن دوسری طرف یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ وہاں سے پڑھ کرکے نکلنے والے نوجوانوں کے لیے نوکریاں کہاں ہیں۔ ان کے مطابق، ’محفوظ نوکری تو سرکاری نوکری ہے، جس میں زندگی کے آخر تک تحفظ کی گارنٹی ہے۔‘
اپنے زمانے کی مثال دیتے ہوئے جوشی نے کہا، ’جب میں پڑھتا تھا تو ہمارے یہاں سب سے زیادہ لوگ داخلہ لینے کے لیے فزکس میں آتے تھے۔ پھر دس برس بعد لوگ آنے لگے الکٹرانکس میں اور پھر 15 برس بعد لوگ آنے لگے الکٹرانک انجینئرنگ میں ۔‘
انہوں نے کہا، ’آپ کو دیکھنا پڑے گا کہ آپ کا منصوبہ کیا ہے۔ لوگوں کو روزگار نہیں ملے گا تو وہ کیا کریں گے؟ تو جو جانا ہوگا، ادھر جائیں گے۔‘
جوشی نے پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں بدعنوانی کو معاشرے میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ جب خود سسٹم میں ہی غلط راستے کھول دیے جاتے ہیں تو طلبہ سے ایمانداری کی توقع کرنا مشکل ہے۔
انہوں نے کہا، ’جب یہ ہوتا ہے تو گھپلا ہوگا ہی۔ پھر آدمی یہ دیکھتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر کوئی رشوت دے کر ٹھیکہ حاصل کر رہا ہے, تو میں اب درخواست منظور نہیں کر سکتا۔ پھر جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ جب میرا استاد رشوت لے کر بنا ہے ،تو پھر میں کیوں نہیں پاس کر سکتا؟‘
جوشی نے کہا، ’جب وزیر اور اس کے اوپر الزام لگ رہے ہیں، جب عدلیہ میں لوگوں پر الزام لگ رہے ہیں … تو وہ کہتا ہے کہ یہ راستہ تو یہی ہے۔ اب آپ نے راستہ کھول دیا اور اس کے بعد آپ کہہ رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟‘
انہوں نے کہا، ’تو ہم نے ہی یہ راستہ بنایا ہے۔ یہ ان بچوں کا قصور نہیں ہے۔ یہ قصور تو ہمارا ہے۔‘
جوشی نے اپنے دور اقتدار کا موجودہ صورتحال سے موازنہ کرتے ہوئے کہا، ’میں بہت عاجزی سے کہتا ہوں، واجپائی جی کے زمانے میں پیپر لیک کیوں نہیں ہوا؟‘ انہوں نے کہا کہ اس وقت بنیادی چیزوں پر توجہ دی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق، ’اب تو بینکوں میں گھوٹالے ہو رہے ہیں۔ تو پھر تعلیم میں بھی گھوٹالے ہوں گے۔ کاروبار میں گھوٹالے ہو رہے ہیں۔ حکومت خود گھوٹالے کر رہی ہے۔ پھر آپ اس بیچارے [طالبعلم] کو کیوں قصوروار ٹھہرا رہے ہیں؟ وہ تو کرے گا ہی۔‘
جوشی نے اسے وسیع سماجی ڈھانچے سے جوڑتے ہوئے کہا، ’آپ کو بنیادی طور پر یہ دیکھنا ہوگا کہ معاشرے میں آپ نے کیا طے کیا ہے، جو معاشرتی ڈھانچہ آپ نے بنا دیا ہے، وہ اس لیے بنایا ہے کہ آپ نے اسے مادی فائدے کے حصول کے لیے بنا دیا ہے۔‘ انہوں نے کہا، ’معاشرے کا مقصد آپ نے خود یہ مقرر کیا ہے کہ پیسہ ہونا چاہیے، ہر شخص دولت مند ہونا چاہیے۔ وہ دوسروں کی جیب کاٹ کر بھی بن سکتے ہیں۔‘
’امتحان نہ ہوا، جنگ ہو گئی‘
پیپر لیک کے معاملے پر جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج اور حکومت کی تیاریوں کے بارے میں سوال کے جواب میں جوشی نے اسے مرکزیت کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ ہر مسئلے کا حل ایک ہی جگہ سے ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اب کوشش یہ ہو رہی ہے کہ پرچے کیسےبنائے جائیں کہ وہ لیک نہ ہوں، پھر جہاں پرچے بن رہے ہیں وہاں سے چھپ کر کیسے جائیں، ان کی حفاظت کے لیے فوج کیسے تعینات کی جائے، ہوائی جہاز کیسے آئے۔ یہ بتاتے ہوئے جوشی ہنسنے لگے اور کہا، ’بھائی، کمال ہے۔ امتحان نہ ہوا، جنگ ہو گئی!‘
تعلیمی بجٹ: ’ترجیحات کیا ہیں؟‘
تعلیمی بجٹ اور حکومت کی ترجیحات کے حوالے سے بھی جوشی نے سوال اٹھائے۔ ان سے پوچھا گیا کہ عام بجٹ میں تعلیم پر ہونے والا خرچ اب بھی کم رہتا ہے اور کیا حکومت کی ترجیحات میں تعلیم کو وہ اہمیت حاصل نہیں ہے؟
جوشی نے جواب دیا، ’نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے بجٹ مختص کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم، ابتدائی تعلیم اورمیڈیکل کے لیے بجٹ کم ہوتا جا رہا ہے، جبکہ سڑکوں اور روڈ ٹرانسپورٹ پر اخراجات بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’سڑکیں کتنی بنیں، کیسی بنیں، ملک کی کیا ضرورت ہے، اس پر غور کیا جا سکتا ہے، کیا جانا چاہیے۔ لیکن کس قیمت پر بنیں، کس کی ترجیحات میں ہو، اس پر بھی غورو فکر ہونا چاہیے۔‘
جوشی کے مطابق، کسی بھی ترقیاتی پالیسی میں سب سے پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ ملک کی ترجیحات کیا ہیں۔ انہوں نے کہا، ’اگر ترجیحات میں ملک میں صنعتی ترقی ہے اور وہ بھی نجی صنعتی ترقی، تو ہر چیز اسی طرف سے چلے گی۔ اگر آپ کی ترجیحات میں ملک کی مجموعی ترقی ہے، تو پھر تعلیم بھی اسی طرف چلے گی۔‘
انہوں نے بنیادی ڈھانچے اور تعلیم کے درمیان تعلق کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صرف سڑکیں بنا دینے سے ترقی مکمل نہیں ہو جاتی۔ ’آپ نے سڑک بنا لی، لیکن انجینئر کہاں سے آئے گا؟ اس کے لیے تو انجینئرنگ کالج بنانے پڑیں گے۔ اگر آپ نے سڑک بنا لی تو سڑک بنانے والی مشین کہاں سے آئے گی؟ اگر وہ بیرون ملک سے آ رہی ہے تو پھر فائدہ کیا ہوا؟‘
نئی تعلیمی پالیسی: جوشی نے بتایا، راجیو گاندھی کی بنائی ہوئی تعلیمی پالیسی کو کیوں نہیں بدلا
مرلی منوہر جوشی نے نئی تعلیمی پالیسی کے حوالے سے کہا کہ اس کی پہلی کوشش اٹل بہاری واجپائی کی قیادت والی حکومت کے دور میں کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت درسی کتابوں میں مختلف برادریوں اور ذاتوں کے حوالے سے قابلِ اعتراض مواد کا معاملہ سامنے آیا تھا اور یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تھا۔ اس کے بعد انہیں نئی تعلیمی پالیسی بنانے کے لیے کہا گیا۔
جوشی کے مطابق، انہوں نے اس وقت کی تعلیمی پالیسی کا مطالعہ کیا اور پایا کہ نئی پالیسی بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا، ’میں نے پرانی تعلیمی پالیسی دیکھی – میں نے کہا کہ کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم جو کچھ کرنا چاہتے ہیں، اسی سے ہو سکتا ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صرف اس لیے پرانی تعلیمی پالیسی کو تبدیل کرنا مناسب نہیں تھا کہ وہ راجیو گاندھی کے دور حکومت میں بنائی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے پرانی تعلیمی پالیسی کی بنیاد پر ہی ضروری تبدیلیاں کیں اور جہاں مختلف پہلوؤں کو آپس میں جوڑنا ضروری تھا، وہاں ایسا کیا گیا۔
جوشی کے مطابق، تعلیمی پالیسی بناتے وقت سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ ’مقصد واضح ہونا چاہیے۔ وہ مقصد یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی ایک صنعتی پالیسی سے منسلک ہو، یا کسی ایک تجارتی پالیسی سے منسلک ہو، یا کسی بین الاقوامی پالیسی سے منسلک ہو، یا کسی جنگی پالیسی سے منسلک ہو۔ پالیسی جامع ہونی چاہیے، جس میں یہ سب چیزیں شامل ہوں اور انسان کی ترقی بھی۔‘
جوشی نے نئی تعلیمی پالیسی تیار کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ پرانی پالیسی کی سربراہی کرنے والے سائنسدان کے کستوری رنگن ان کے پرانے دوست ہیں۔ جوشی کے مطابق، جب انہوں نے کستوری رنگن سے پوچھا کہ وہ نئی تعلیمی پالیسی میں کیا کر رہے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا، ’کمیٹی جو کر رہی ہے، کر رہی ہے۔ میں تو جو آتا ہے، اسے مربوط کر دیتا ہوں۔‘
جوشی نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں کئی باتیں نیتی آیوگ سے بھی آئی تھیں۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں موجود پلاننگ کمیشن سے اس کا موازنہ کرتے ہوئے کہا، ’ہمارے زمانے میں پلاننگ کمیشن تھا۔ لیکن کمیشن تعلیمی شعبے میں مداخلت نہیں کرتا تھا۔ وہ صرف اتنا کہتا تھا کہ اس طرح کے لوگوں کی ضرورت ہے اور لیبر فورس ایسی ہونی چاہیے۔‘
’تعلیم کو تجارتی سرگرمی نہیں سمجھا جانا چاہیے‘
جوشی نے تعلیمی مساوات کے لیے یکساں اسکولی نظام کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر آئین میں ترمیم کرکے یہ اہتمام کیا جانا چاہیے کہ ہر بچہ اپنے محلے کے اسکول میں ہی تعلیم حاصل کرے۔
انہوں نے کہا، ’بچہ چاہے کسی دولت مند کا ہو، چاہے آئی اے ایس افسر کا ہو، کسی کا بھی بچہ ہو، غریب ہو یا امیرہو ، وہ محلے میں پڑھے گا، گاؤں میں پڑھے گا۔ ابتدا ہی سے یکساں تعلیم ہونی چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ کم از کم ثانوی تعلیم تک یہ نظام نافذ ہونا چاہیے۔ جوشی نے کہا، ’یہ میرا تصور تھا اور آج بھی میں اس اصول کو مانتا ہوں کہ جب تک ملک میں اس طرح کی تعلیم نہیں ہوگی اور تعلیم اس سطح تک مفت نہیں ہوگی، تب تک اس ملک میں ہم تعلیم کے معاملے میں بہت پیچھے رہیں گے۔‘
تعلیم کے بڑھتے ہوئے تجارتی رجحان پر بھی جوشی نے سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کو تجارتی سرگرمی نہیں سمجھا جانا چاہیے اور اس کا مقصد پیسہ کمانا نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’جو لوگ تعلیمی میدان میں آتے ہیں، وہ ضرور آئیں۔ یہ ملک کے لیے ضروری ہے۔ وہ اس سے پیسہ بھی کما سکتے ہیں، لیکن اس پر کچھ ایسی پابندیاں بھی ہونی چاہیے کہ تعلیم سے حاصل ہونے والی آمدنی تعلیم ہی میں صرف ہو۔‘
جوشی نے تعلیم اور صحت کو منافع کمانے کا ذریعہ بنائے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا، ’یہ نہیں کیا جا سکتا کہ آپ میڈیکل اور تعلیم سے، لوگوں کی تعلیم اور صحت یعنی بیماری سے پیسہ بنائیں۔یہ اس ملک میں کبھی نہیں ہوا۔‘
وکست بھارت‘ کے ہدف پر جوشی کا سوال: وکاس کا مطلب کیا ہے؟
موجودہ تعلیمی پالیسی میں ’وکست بھارت‘ کے ہدف کے حوالے سے بھی جوشی نے سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ہدف طے کرنا اچھی بات ہے، لیکن یہ واضح ہونا چاہیے کہ وکاس‘ اور ’وکست‘ ہونے کا مطلب کیا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جدید ترقی کے پیمانوں پر قبائلی برادریوں کو بھلے ہی ’غیر ترقی یافتہ‘ مانا جائے، لیکن انسانی نقطۂ نظر سے ایساکیسے کہا جا سکتا ہے؟
جوشی نے کہا، ’وہ ماحول کی حفاظت کر رہا ہے، سادہ لوح ہے، جھوٹ نہیں بولتا، چوری نہیں کرتا، زندگی فطرت کے ساتھ ہے، خوش ہے ،جنگل نہیں کاٹتا۔‘ ان کے مطابق، تعلیمی پالیسی میں یہ طے کرنا ضروری ہے کہ معاشرے کے لیے زندگی کی اقدار کیا ہوں گی۔
انہوں نے کہا، ’آپ زندگی کی اقدار تو وہ رکھنا چاہتے ہیں اور معاشی اقدار یہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک تضاد ہے۔‘
جوشی نے تعلیم کی بڑھتی ہوئی نجکاری اور مہنگی ہوتی اعلیٰ تعلیم پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت ’مہان ویدک پرمپرا‘ اور ’گیان کی پرمپرا‘ کی بات کرتی ہے، وہیں دوسری طرف ایسے تعلیمی ادارے بنائے جا رہے ہیں جہاں تعلیم حاصل کرنے کا خرچ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’اگر اچھا پڑھنا ہے تو وہاں جاؤ، اس کے لیے پچاس لاکھ روپے لاؤ۔ کیا مطلب ہے اس بات کا ؟ کوئی غریب آدمی نہیں پڑھ سکتا اس میں۔‘ انہوں نے کہا کہ مہنگی تعلیم معاشی اور سماجی عدم مساوات کو اور بڑھاتی ہے۔
جوشی نے کہا کہ اس کا اثر بڑے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے درمیان پیدا ہونے والے سماجی دباؤ میں بھی نظر آتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا، ’بڑے اداروں میں ہی طلبہ کی خودکشی کے معاملے کیوں ہو رہے ہیں؟ چھوٹے اسکولوں میں کیوں نہیں ہو رہے ہیں؟‘ ان کے مطابق، معاشی اور سماجی عدم مساوات مل کر صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتی ہیں۔
سرکاری اسکولوں کے بند ہونے پر: ’بچے کیوں کم ہیں؟‘
سرکاری اسکولوں کو بند کیے جانے کی دلیل پر بھی جوشی نے سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں بچوں کی تعداد کم ہونے کو اس کی وجہ بتایا جا رہا ہے، لیکن یہ نہیں پوچھا جا رہا کہ بچے کم کیوں ہوئے۔
انہوں نے کہا، ’بچے اس لیے کم ہیں کہ وہ کہتا ہے کہ استاد نہیں آتا۔ استاد کیوں آئے؟ آپ نے کوئی انتظام تو کیا ہی نہیں ہے۔‘
جوشی کے مطابق، سرکاری اسکولوں کو بند کرنے کے بجائے حکومت کو ان کی بنیادی سہولیات اور انتظامی نظام بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’یہ جو شور مچایا جاتا ہے کہ یہ ہوگا، کچھ نہیں ہوگا۔ کر کے تو دیکھیے۔ کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ہم آج کر کے دکھا دیں گے۔‘
جوشی نے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات اور اساتذہ کی کمی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔
انہوں نے کہا، ’جب آپ نے (اسکول) تو کھول دیا لیکن استاد ہے نہیں، تو طالبعلم کیا کرے گا؟ ابھی آپ نے ایک بچی کا احتجاج دیکھا۔ وہ کہہ رہی ہے کہ ہمارے یہاں فزکس کا استاد ہی نہیں ہے۔ دوسری والی کہہ رہی ہے کہ ہماری تو بلڈنگ ہی نہیں ہے، اور چوتھا کہہ رہا ہے کہ میرے اسکول میں چھت ہی نہیں ہے۔ یہ بچے کہہ رہے ہیں۔ تو آپ کدھر جا رہے ہو؟‘

