نیویارک: اقوامِ متحدہ کے عالمی سمندری ادارے (آئی ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے عالمی بحری تجارت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث سیکڑوں تجارتی جہاز اور ہزاروں بحری عملہ خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ادارے نے جمعہ کو بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے چھ ماہ بعد بھی ۴۰۰؍ سے زائد تجارتی جہاز اور ان پر سوار ۶؍ ہزار بحری عملے کے افراد خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آئی ایم او کے سربراہ آرسینیو ڈومنگوز نے کہا کہ اگرچہ کچھ جہاز اور عملہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہے، تاہم تنازع شروع ہونے کے بعد سے تقریباً ۴۰۰؍ جہاز اب تک باہر نہیں نکل پائے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو غیر حل شدہ اور تشویشناک قرار دیا، جو دنیا کے کل تیل کی تجارت کے ۲۰؍ فیصد کی گزرگاہ ہے۔
ادارے نے تصدیق کی کہ ۲۸؍ فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر تقریباً ۷۰؍ حملے ہو چکے ہیں، جن میں ۱۹؍ بحری عملے کے افراد ہلاک ہوئے۔ ڈومنگوز نے کہا کہ ایندھن اور کھاد جیسی ضروری اشیاء کی سپلائی متاثر ہونے سے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اور ہزاروں بے قصور ملازمین مسلسل خطرے اور غیر یقینی کیفیت میں ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری، رکن ممالک اور بحری تجارتی کمپنیوں سے اس اہم گزرگاہ پر جہازوں کی آزادانہ رسائی بحال کرنے کیلئے سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے جون میں ایک میمورنڈم پر دستخط کر کے حتمی معاہدے کیلئے بات چیت شروع کی تھی، تاہم سیکوریٹی ضمانتوں اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری نقل و حمل کے مسئلے پر اختلافات کے باعث مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہیں۔

