اسلام آباد
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں پرائم منسٹر رمضان ریلیف پیکج 2026 کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی اور اعلان کیا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور جامع رمضان ریلیف پیکج ہے، جس کے لیے 38 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ اس سال فی کس امدادی رقم کو گزشتہ سال کے 5,000 روپے سے بڑھا کر 13,000 روپے کر دیا گیا ہے، تاکہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مستحق خاندانوں کی بھرپور مالی مدد کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پیکج کی تقسیم گزشتہ سال کے کامیاب تجربے کی بنیاد پر ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے مکمل طور پر شفاف انداز میں کی جا رہی ہے، جس سے لوگوں کو لمبی قطاروں سے نجات ملی ہے اور ان کی عزت نفس بھی محفوظ ہے۔
اجلاس میں دی جانے والی بریفنگ کے مطابق رمضان کے 8ویں روز تک 64 فیصد مستحق افراد کو رقوم پہنچائی جا چکی ہیں جبکہ باقی ماندہ افراد کی تصدیق اور جانچ کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس سال 12 بینک اور فنانشل ٹیکنالوجی کمپنیاں حکومت کے شراکت دار کے طور پر رقوم کی تقسیم میں حصہ لے رہی ہیں۔ مستحقین اب تک 1.1 ملین ڈیجیٹل ٹرانزیکشن مکمل کر چکے ہیں اور آگاہی کے لیے 12 لاکھ 27 ہزار سے زائد خودکار (روبو) کالز کی جا چکی ہیں۔
پیکج کا دائرہ کار پورے پاکستان بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر تک پھیلا ہوا ہے۔ ریئل ٹائم ڈیش بورڈز کے ذریعے ادائیگیوں کی شفافیت یقینی بنائی جا رہی ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر تخفیف غربت سید عمران احمد شاہ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

