ایران جنگ طویل ہونے پر امریکی فوجی قیادت کا انتباہ: ملکی دفاعی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ

pete hegseths d


واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع کی ایک اندرونی جائزہ رپورٹ میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اور مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی ۲۰۲۷ء تک برقرار رکھنے سے امریکہ کی دیگر خطوں میں کارروائی اور اپنے ملک کے دفاع کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔
"سیکریٹری آف ڈیفنس آرڈرز بک” میں بحرالکاہل، یورپی اور جنوبی کمان کے سربراہوں نے فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں برقرار رکھنے کے فیصلے سے اختلاف درج کرایا، تاہم اسے نافذ کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ جنگی وسائل کی منتقلی سے لاطینی امریکہ، یورپ اور ایشیا میں تربیتی و فوجی مشن متاثر ہوئے ہیں۔ امریکی بحریہ کے سربراہ کے مطابق تباہ کن جہازوں کے بیڑے کا صرف ۲۵ فیصد حصہ فی الوقت تعیناتی کے لیے تیار ہے۔
پینٹاگون نے رپورٹ کو "جعلی خبر” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ترجمان شان پارنیل کے مطابق ہیگسیتھ فوجی کمانڈروں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
جنگ فروری میں امریکہ اسرائیل مشترکہ حملوں سے شروع ہوئی اور ۶ ماہ سے جاری ہے۔ اب تک ۵ء۳۷ بلین ڈالر خرچ ہوچکے ہیں، مزید ۶۷ بلین ڈالر درکار ہوسکتے ہیں۔ ۱۸ امریکی فوجی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ امریکی عوام میں جنگ کی حمایت کمزور پڑ رہی ہے۔

متعلقہ پوسٹ