جنسی ہراسانی عدلیہ کا گندا راز ، کوئی اس پر بات نہیں کرنا چاہتا: اندرا جئے سنگھ

Women Judges Judiciary


سینئر وکیل اندرا جئے سنگھ نے کہا کہ کئی خواتین جج ان کے پاس جنسی ہراسانی کی شکایتیں لے کر آئی ہیں۔ انہوں نے عدلیہ میں سینئر اور جونیئر کے نظام اور جاگیردارانہ رجحانات کو اس کی ایک وجہ قرار دیا۔ جئے سنگھ نے کہا کہ جنسی ہراسانی ہندوستانی عدلیہ کا ’گندا راز‘ ہے، جس پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔

Women Judges Judiciary

(السٹریشن: پکسابے)

نئی دہلی: سینئر ایڈوکیٹ اندرا جئے سنگھ نے کہا ہے کہ انہیں کئی خواتین ججوں سے ان کے مرد کولیگ کے ذریعے جنسی ہراسانی کی شکایتیں ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں سینئر اور جونیئر کا نظام ایسے واقعات کی ایک بڑی وجہ ہے۔

لائیو لا کے مطابق، جئے سنگھ نے کہا، ’اپنے تجربے کے دوران مجھے خواتین ججوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ میں نے بہت سی خواتین ججوں کی نمائندگی کی ہے۔ یہ خواتین جج میرے پاس مرد ججوں کی جانب سے کی جانے والی جنسی ہراسانی کی شکایتں لے کر آئی ہیں۔ اسی وجہ سے میں نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ جنسی ہراسانی ہندوستانی عدلیہ کا گندا راز ہے۔ کوئی اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔‘

انہوں نے عدلیہ میں موجود درجہ بندی کے نظام کو جنسی ہراسانی کے واقعات کی ایک وجہ قرار دیتے ہوئے اپنے ایک تجربے کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک ایسی خاتون جج کی نمائندگی کی تھی جس نے جنسی ہراسانی کی شکایت کی تھی۔

جئے سنگھ کے مطابق، ’جس خاتون جج کی میں نمائندگی کر رہی تھی، اس نے مجھے بتایا کہ جب کسی ہائی کورٹ کے جج کی الوداعی تقریب ہوتی ہے تو خواتین ضلع عدالت کی ججوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی رنگ کی ساڑیاں پہن کر قطار میں کھڑی ہوں اور کھانے کے ہال میں داخل ہونے والے تمام مرد ججوں کے راستے میں پھول برسائیں۔ اعلیٰ عدلیہ میں یہی روایت ہے۔‘

ایسی روایات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج ضلع عدالتوں کے ججوں سے یہ توقع رکھتے ہیں اور اس کے انتہائی سنگین نتائج ہوتے ہیں، خصوصی طور پر خواتین ججوں کے لیے۔ جس خاتون جج نے مجھے یہ بات بتائی تھی، اسی کو ایک جج نے جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔ اس جج نے اس سے کہا تھا کہ وہ اس کی 25ویں شادی کی سالگرہ کی پارٹی میں آئے اور ’آئٹم نمبر‘ پر ڈانس کرے۔ اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے بعد اسے اپنینوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔‘

جئے سنگھ نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کی شرمناک روایات 2047 تک ختم ہو جائیں گی۔

جئے سنگھ نے یہ بات سینئر وکیل ڈاکٹر ایس مرلی دھر کے ایک لیکچر کے بعد کہی۔

اس سے قبل مرلی دھر نے اپنے خطاب میں عدلیہ سے متعلق کئی مسائل پر بات کی تھی، جن میں عدالتی معاملوں میں تاخیر سے لے کر طلبہ کے احتجاج تک کے معاملے شامل تھے۔ انہوں نے عدلیہ میں موجود درجہ بندی کے نظام اور جاگیردارانہ رجحانات پر بھی تنقید کی تھی۔

مرلی دھر نے کہا تھا کہ خواتین ججوں کو سینئر مرد ججوں کی جانب سے جنسی تبصروں اور ہراسانی کا سامنا کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عدلیہ میں جنسی ہراسانی کے الزامات کا ایک مشہور معاملہ 2019 میں سامنے آیا تھا، جب سپریم کورٹ کی ایک سابق خاتون ملازمہ نے اس وقت کے چیف جسٹس رنجن گگوئی پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ شکایت کنندہ نے 19 اپریل 2019 کو سپریم کورٹ کے 22 ججوں کو ایک حلف نامہ بھیج کر اپنی شکایت درج کرائی تھی۔

ان الزامات کی تحقیقات سپریم کورٹ کی ایک اندرونی کمیٹی نے کی تھی، جس میں اس وقت کے جج ایس اے بوبڈے، جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس اندو ملہوترا شامل تھے۔ کمیٹی نے الزامات میں ’کوئی دم نہیں‘ پایا تھا۔ تاہم، کمیٹی کی رپورٹ کوعام نہیں کیا گیا۔ شکایت کنندہ نے تحقیقات کے طریقۂ کار اور کمیٹی کی غیر جانبداری پر اعتراض کرتے ہوئے کارروائی سے خود کو الگ کر لیا تھا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ