باقی بچوں کو بھی بچانا چاہتی تھی: پمز کی نرس نورین

398172 118854637


رضیہ نورین اور ان کی ساتھی نرسوں نے اسلام آباد کے ہسپتال کی نرسری میں زیر نگہداشت 15 نومولود بچوں کا حال ہی میں جائزہ لیا تھا اور ان میں سے بعض کو انجیکشن لگانے کی تیاری کے لیے ساتھ والے کمرے میں گئی تھیں کہ اچانک نورین نے کچھ غیر معمولی دیکھا ’ آگ کے شعلے‘۔

نرس نے سرنج ہاتھ سے گرا دی اور فوراً نرسری کی طرف دوڑیں۔

انہوں نے ایک بچے کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور پھیلتی ہوئی آگ سے اسے بچانے کے لیے اپنے سینے سے لگا لیا۔ یہ واقعہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آیا، جہاں نرسری دھویں سے بھر رہی تھی۔

صرف آٹھ سیکنڈ بعد، جیسا کہ سکیورٹی کیمرے کی ڈرامائی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔ نورین نومولود بچے کو لے کر باہر نکلیں اور اسے قریب موجود ایک ڈاکٹر کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد وہ بغیر کچھ سوچے دوبارہ آگ کی جانب بڑھیں، لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی۔

نورین نے ہسپتال کے سٹاف ہاسٹل میں، جہاں وہ رہائش پذیر ہیں، ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں باقی بچوں کو بھی بچانا چاہتی تھی۔ میں نے امید نہیں چھوڑی تھی۔‘

لیکن نرسری میں داخل ہونا تیزی سے ناممکن ہوتا جا رہا تھا۔ نورین اور ایک دوسری نرس فرش پر لیٹ گئیں، جہاں دھواں نسبتاً کم تھا، اور دروازے سے اندر جانے کی کوشش میں رینگنے لگیں۔

اپنے ایک انٹرویو میں نورین نے بتایا کہ انہیں اپنے سامنے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ دھویں نے ان کا دم گھونٹ دیا تھا اور وہ اتنی شدت سے کھانسنے لگیں کہ سانس لینا بھی مشکل ہو گیا۔

اس کے باوجود انہوں نے آگے بڑھنے کی کوشش جاری رکھی، یہاں تک کہ شعلوں نے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

چند ہی منٹوں میں انہیں معلوم ہوا کہ باقی 14 نومولود بچوں کی موت بھی ہو چکی ہے۔ نورین کے مطابق یہ خبر سن کر وہ صدمے سے زمین پر گر پڑیں۔

ان کی گود سے باہر نکالا گیا بچہ اس سانحے میں واحد زندہ بچنے والا نومولود تھا۔

قومی ہیرو قرار دی جانے والی نرس

26 اگست کو لگنے والی آگ کی 51 سیکنڈ کی سکیورٹی کیمرہ ویڈیو میں نورین کو نرسری میں داخل ہوتے اور چند لمحوں بعد نومولود بچے کو بانہوں میں اٹھائے باہر نکلتے دیکھا جا سکتا ہے۔

حکومتی تحقیقات کے مطابق وہ صرف آٹھ سیکنڈ تک نرسری کے اندر رہیں، جبکہ حالات تقریباً دو منٹ کے اندر ’تباہ کن حد تک خراب‘  ہو گئے تھے۔

ان آٹھ سیکنڈز کی ویڈیو کے بعد پاکستان کے کئی شہریوں نے نورین کو قومی ہیرو قرار دیا ہے۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نورین کو پاکستان کے اعلیٰ سول اعزازات میں شمار ہونے والا ستارہ خدمت اور مالی انعام بھی دیا جائے گا۔

ہسپتال اور ضلعی حکام نے ابتدا میں کہا تھا کہ ایئر کنڈیشننگ یونٹ پھٹنے کے باعث آگ لگی، جبکہ بعد میں ہسپتال کی جانب سے کہا گیا کہ نیبولائزر سے متعلق ایک دھماکے نے آگ بھڑکائی۔

حکومتی تحقیقات میں بڑے سرکاری ہسپتال میں فائر سیفٹی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ آٹھ اہلکاروں کو معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

’یہ میرا فرض تھا‘

نورین کا تعلق پاکستان کی مسیحی برادری سے ہے، جو ملک کی اکثریتی مسلم آبادی میں ایک چھوٹی مذہبی اقلیت ہے۔ پاکستان کی مسیحی برادری سمیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کی بہادری کو سراہا ہے۔

تاہم نورین اپنے اس اقدام کو بہادری یا کوئی غیر معمولی کارنامہ قرار نہیں دیتیں۔ ان کے نزدیک یہ ایک نرس اور ماں کا فطری ردِعمل تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’کیا کوئی ماں اپنے بچے کو آگ میں جلتا دیکھ سکتی ہے؟‘

پھر خود ہی جواب دیا، ’نہیں۔ مائیں اپنے بچوں پر کوئی احسان نہیں کرتیں، یہ ان کا فرض ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پورے پاکستان میں ان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے، لیکن نورین ان بچوں کے غم سے اب بھی باہر نہیں نکل سکیں جن تک وہ نہیں پہنچ پائیں۔

انہوں نے بتایا کہ آگ لگنے کے بعد سے وہ بمشکل سو پائی ہیں۔ جب وہ نرسری کے قریب جاتی ہیں تو شعلوں اور بچوں کی یادیں انہیں گھیر لیتی ہیں۔ بعض اوقات انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اب بھی بچوں کی چیخیں سن سکتی ہیں اور وہ زمین پر گر پڑتی ہیں۔

نورین نے کہا کہ ’ان بچوں کی اموات نے مجھے شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ مجھے اس سے صحت یاب ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد بھی وہ جسمانی طور پر بیمار ہیں۔ اے پی سے گفتگو کے وقت انہیں 103 ڈگری فارن ہائیٹ (39.4 ڈگری سینٹی گریڈ) بخار تھا، لیکن انہوں نے اس لیے انٹرویو دینے پر رضامندی ظاہر کی کہ وہ بتانا چاہتی تھیں کہ اس روز کیا ہوا تھا۔

انہوں نے کہا، ’وہ بچے مجھے سونے نہیں دیتے۔‘

نورین کے مطابق جب نومولود بچوں کو ان کی ماؤں سے جدا کرکے نرسوں کی نگہداشت میں دیا جاتا ہے تو نرسیں ان کے لیے ماں جیسی بن جاتی ہیں۔ وہ بچوں کو دودھ پلاتی ہیں، انہیں ادویات دیتی ہیں اور ہر وقت ان کی نگرانی کرتی ہیں۔

’میں نے صرف ایک ماں کی طرح اپنا فرض ادا کیا۔‘

نورین نے بتایا کہ جلتی ہوئی نرسری میں داخل ہونے کا فیصلہ کرنے میں انہیں ایک لمحہ بھی نہیں لگا۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے فوراً فیصلہ کیا کہ مجھے اپنا کام کرنا ہے۔ ماؤں نے اپنے بچے ہمارے سپرد کیے تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے ایک ماں کی طرح عمل کیا۔ مجھے اپنی جان کی پروا نہیں تھی۔‘

نورین نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کی خدمات کو سراہا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ’میں نے یہ سب کسی انعام یا پیسے کے لیے نہیں کیا۔‘

نورین کے مطابق جب وہ جلتی ہوئی نرسری میں داخل ہوئیں تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ زندہ باہر نکل بھی پائیں گی یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے سامنے صرف ایک مقصد تھا: یہ زندگیاں بچانے کا وقت ہے۔ میرا مقصد تمام بچوں کو بچانا تھا۔ میں نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی حفاظت کے بارے میں نہیں سوچا۔‘

یہ کہتے ہوئے ان کی آواز ایک بار پھر بھر آئی۔

ان کے پاس ان ماؤں کے لیے ایک پیغام تھا جن کے 14 نومولود بچے اس آگ میں جاں بحق ہو گئے۔

آنسوؤں کے ساتھ نورین نے کہا: ’براہِ کرم مجھے معاف کر دیں کہ میں آپ کے بچوں کو بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ