لندن کے میئر سر صادق خان کو ۲۴ سال پرانی نیلے رنگ کی نسان مائیکرا (رجسٹرڈ ۲۰۰۲) کا سالانہ ٹیکس ادا نہ کرنے پر عدالت نے جرمانہ عائد کر دیا۔ گاڑی کا ٹیکس ستمبر ۲۰۲۵ میں ختم ہوا تھا اور ۲۴ جنوری کو بغیر ٹیکس پائے جانے پر DVLA (ڈرائیور اینڈ وہیکل لائسنسنگ ایجنسی) نے کارروائی شروع کی۔
سرکاری ریکارڈ میں گاڑی صادق خان کے نام اور تاریخِ پیدائش کے ساتھ درج تھی، مگر میئر کے دفتر نے سختی سے تردید کی ہے کہ گاڑی ان کی یا TfL کی ملکیت ہے، اور اسے فراڈ قرار دیا ہے۔ معاملہ مزید الجھ گیا کیونکہ DVLA کے نوٹس غلطی سے شیف گورڈن ریمزی کے ریسٹورنٹ کے پتے پر بھیجے گئے — جو TfL کے دفتر کے قریب مگر الگ عمارت میں ہے — جس کی وجہ سے میئر کو بروقت اطلاع نہ مل سکی۔
مقدمہ Single Justice Procedure کے تحت نجی سماعت میں، میئر کی غیر موجودگی میں نمٹایا گیا۔ عدالت نے £220 جرمانہ، £85 عدالتی اخراجات اور £35.84 واجب الادا ٹیکس، یعنی مجموعی طور پر £340.84 ادا کرنے کا حکم دیا۔ DVLA اب معاملے کا از سرِ نو جائزہ لے رہی ہے۔ صادق خان کو اپنی صفائی کیلئے عدالت سے فیصلہ واپس لینے کی درخواست دینا پڑ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ صادق خان کی ULEZ کی توسیع کے بعد بعض مخالفین نے احتجاجاً گاڑیاں ان کے نام رجسٹر کرانے کی دھمکیاں دی تھیں۔

