ایل نینو کے باعث ہونے والی گرمی سے لاکهوں لوگوں کی موت متوقع

2707831790164512 0


2026 کے سپر ایل نینو سے پیدا ہونے والی اضافی گرمی کے باعث آئندہ تقریباً چھ ماہ میں 4 لاکھ 51 ہزار کے قریب اضافی اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ اندازہ کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی نئی تحقیق پر مبنی ہے۔ ایل نینو بحرالکاہل کے مرکزی اور مشرقی حصے میں سمندری سطح کے پانی کے معمول سے زیادہ گرم ہونے کا موسمیاتی رجحان ہے۔

اس کے اثرات دنیا کے مختلف حصوں کے موسم پر پڑتے ہیں۔ موجودہ ایل نینو کو غیر معمولی طور پر شدید قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ 2026 کے آخر میں اپنی شدت کے عروج تک پہنچ سکتا ہے۔

ایل نینو شدید گرمی، ہیٹ ویوز، خشک سالی اور دیگر موسمی اثرات کے ذریعے صحت کے خطرات بڑھاتا ہے۔ شدید گرمی خصوصاً دل اور سانس کے امراض کے شکار افراد، بزرگوں اور زیادہ دیر تک باہر کام کرنے والوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ایل نینو کے اثرات صرف گرمی تک محدود نہیں بلکہ خشک سالی، جنگلات کی آگ اور بارشوں کے نظام میں تبدیلی بھی پیدا کر سکتے ہیں.

رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اضافی گرمی سے تقریباً 451,000 اموات ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر تازہ رپورٹ میں انڈونیشیا میں تقریباً 19,300 اضافی اموات کا تخمینہ دیا گیا ہے۔

البتہ یہ پیش گوئی/ماڈلنگ کا تخمینہ ہے، یقینی تعداد نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اتنے لوگ لازماً ہلاک ہوں گے۔ ہیٹ ایکشن پلان، بروقت وارننگ، ٹھنڈا رکھنے کے انتظامات اور طبی سہولیات جیسے اقدامات اموات کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ