نارووال میں مندر کو بارش سے نقصان پہنچا، انڈین پروپیگنڈا بے بنیاد: پاکستان

398219 457635111


پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو کہا ہے کہ پنجاب کے شہر نارووال کے نواحی علاقے اڈا سراج میں واقع صدی پرانے ہندو مندر کو بارش سے نقصان پہنچا اور اس بابت انڈین پروپیگنڈا بے بنیاد ہے۔

اڈا سراج میں ہندو مندر سے متعلق انڈین وزارت خارجہ کے بیان پر میڈیا کے سوالات کے جواب میں وزارت خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان کا کہنا تھا کہ ’ہم نارووال کے علاقے اڈا سراج میں ہندو مندر کے حوالے سے انڈین وزارت خارجہ کے جھوٹے اور سیاسی مقاصد پر مبنی دعووں کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہیں۔‘ 

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ انڈیا کی جانب سے پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے کے برعکس 21 جولائی، 2026 کو موسلادھار بارشوں کے باعث مندر کی عمارت کو نقصان پہنچا جب کہ مقامی حکام بارش سے ہونے والے نقصان کا پہلے ہی جائزہ لے چکے ہیں اور عمارت کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ 

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس لیے یہ شرمناک ہے کہ انڈیا حقائق کو مسخ کر رہا ہے اور اوچھے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق: ’حقائق کو جان بوجھ کر اس طرح مسخ کرنے سے انڈیا میں اقلیتوں پر منظم مظالم اور ان کی عبادت گاہوں پر ریاستی سرپرستی میں ہونے والے حملوں کے بدترین ریکارڈ سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’دنیا اقلیتوں کے خلاف ہندوتوا نظریے کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے بخوبی آگاہ ہے، اور اسے مسلمان، سکھ اور مسیحی برادریوں پر ہونے والے مظالم کے لیے انڈین قیادت کا احتساب کرنا چاہیے۔‘

قبل ازیں پنجاب کے وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا اس حوالے سے اپنے ویڈیو بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ مندر کو گرائے جانے کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں سراسر غلط اور حقیقت کے برعکس ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود موقع پر جا کر صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور حقائق یہ ہیں کہ حال ہی میں ہونے والی موسلا دھار اور طوفانی بارشوں کی وجہ سے مندر کی قدیم عمارت کا صرف ایک حصہ منہدم ہوا تھا، جسے کوئی انسانی کارروائی قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ