غزہ جنگ میں ٹانگ گنوانے والے اسرائیلی فوجی کو ادیداس کی مہم میں شامل کرنے پر شدید تنقید

Inquilab 20260904 195606 0000 d


عالمی برانڈ ادیداس اپنی ”سنگل شو سروس“ مہم میں سابق اسرائیلی فوجی شالیو بیتون کو شامل کرنے پر شدید تنقید کی زد میں آگیا ہے۔ یہ سروس نچلے اعضاء کی معذوری کا شکار افراد کے لیے ہے، جس کے تحت جوڑے کی بجائے صرف ایک جوتا آدھی قیمت پر خریدا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بیتون کی بائیں ٹانگ مئی 2021ء میں غزہ کے قریب ان کی گاڑی پر اینٹی ٹینک میزائل لگنے سے ضائع ہوگئی تھی، جس میں ان کا ایک ساتھی فوجی بھی مارا گیا تھا۔ بحالی کے بعد بیتون بے جوڑ جوتے خریدنے کی اپنی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل میں ادیداس کی اس سروس کو فروغ دینے میں شامل ہوگئے۔
یہ سروس جنوری 2026ء میں یورپ میں شروع ہوئی اور اب 23 یورپی ممالک کے ادیداس اسٹورز پر دستیاب ہے، تاہم آن لائن اور تھرڈ پارٹی ریٹیل پر ابھی لاگو نہیں ہوتی۔ ادیداس کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام معذور افراد اور پیرا اولمپکس جی بی جیسے گروپوں کے مشوروں سے تشکیل دیا گیا۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایک اسرائیلی فوجی کا انتخاب نامناسب ہے، کیونکہ عالمی ادارہ صحت کی مئی 2026ء کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023ء سے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں 5000 سے زائد اعضاء کاٹنے اور 22000 سے زائد بڑے زخموں کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ معذوری سے متعلق اس گفتگو میں معذور فلسطینیوں کو شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025ء سے مئی 2026ء تک غزہ میں معائنے کے تحت آنے والے 2277 معذور افراد میں سے وسائل کی قلت کے باعث صرف 502 کو مصنوعی اعضاء لگائے جاسکے۔

متعلقہ پوسٹ