نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ کی قیادت کی — پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کے پوڈیم کا کردار چھوڑنے کے بعد یہ پہلی بریفنگ تھی۔ اس میں وینس نے معیشت سے لے کر ایران کے ساتھ جاری تنازع تک مختلف موضوعات پر نامہ نگاروں سے بات کی۔ ایران جنگ میں امریکی شمولیت کے تقریباً 6 ماہ بعد اور وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی کے خدشات کے درمیان یہ بریفنگ سامنے آئی۔ یہ مقررہ وقت سے 45 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوئی اور تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔
معیشت پر بات کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ پچھلی انتظامیہ کے دور میں مہنگائی جڑ پکڑ چکی تھی۔ الزام تراشی پر توجہ مرکوز کرنے سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے نئی فیکٹریوں کی تعمیر کو معیشت کی جاری بحالی کا ثبوت قرار دیا اور دلیل دی کہ اگر ڈیموکریٹس دوبارہ اقتدار میں آئے تو ان کی پالیسیاں مہنگائی کی صورتحال مزید خراب کر دیں گی۔
وینس نے اس بات کی تردید کی کہ موجودہ امریکی پالیسی کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں خلل پڑا ہے یا کوئی توانائی کا بحران پیدا ہوا ہے، اور صدر ٹرمپ کو توانائی کی عالمی قلت روکنے کا کریڈٹ دیا۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا بند کرے۔
محکمہ دفاع میں ہلچل کے بارے میں پوچھے جانے پر وینس نے فوجی کلچر کو نئی شکل دینے کیلئے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی کوششوں سے اتفاق کیا۔ انہوں نے ”دجال” (antichrist) کے حوالے سے گزشتہ روز دیئے گئے متنازع بیان پر بھی بات کی، جس کی بریفنگ کے دوران ازسرِ نو جانچ پڑتال کی گئی۔
نائن الیون کی سالگرہ کے موقع پر وینس نے سابق صدر بائیڈن کے ساتھ نیویارک کی تقریبات میں شرکت کے منصوبوں کی تصدیق کی۔ ڈیٹا سینٹرز کی عوامی مخالفت کے سوال پر انہوں نے اسے امریکی بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق وسیع تر خدشات سے جوڑا اور ڈیٹا سینٹرز کو نئے ایٹمی بجلی گھروں سے جوڑنے کے منصوبوں کا حوالہ دیا۔
جنگ کے دورانیے کے بارے میں پوچھے جانے پر وینس نے کہا کہ اس کے خاتمے سے متعلق سوالات ایران سے کئے جانے چاہئیں — اس تبصرے کو نامہ نگاروں کی فوری مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے 2028ء کے صدارتی امیدواروں سے متعلق قیاس آرائیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ ان کی توجہ مڈ ٹرم انتخابات پر مرکوز ہے۔
سوشل میڈیا پر منقسم ردِعمل
ایکس پر وینس کے حامیوں نے انہیں فصیح، واضح، ذہین اور کسی اسکرپٹ کے بغیر بولنے والا قرار دے کر سراہا، خاص طور پر ایران، معیشت اور مڈ ٹرمز پر ان کی وضاحتوں کو پسند کیا۔ تاہم ناقدین نے ان کے لہجے کو خود پسند، پُرتکلف اور متکبرانہ قرار دیا۔ نائن الیون کی سالگرہ پر بائیڈن کے ساتھ ”وقت گزارنے” سے متعلق ان کے طنزیہ مذاق کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جسے بے حسی اور قابلِ رحم قرار دیا گیا، خصوصاً بائیڈن کی صحت کے مسائل کے پیشِ نظر۔ کئی افراد نے پوری بریفنگ کو جھوٹ کا پلندہ اور بیزار کن قرار دے کر مسترد کر دیا۔

