چین: اشتہاری مقامات پر سائنسدانوں کا قبضہ، بچوں کو ‘اصل ہیروز’ سے روشناس کرانے کی کوشش

china heros d


شاپنگ مالز، میٹرو اسٹیشنوں، ہائی اسپیڈ ریل اسٹیشنوں اور بڑی ایل ای ڈی اسکرینوں پر تجارتی اشتہارات کی جگہ چیان شوسیئن، یوان لونگ پنگ، تو یویویو اور دیگر محققین کی تصاویر؛ بھارتی صنعت کار ہرش گوئینکا نے تعریف کی، سوال اٹھایا کہ بھارت کے ہواردنگز سیاست دانوں اور فلمی ستاروں سے کیوں بھرے ہیں
بیجنگ/شاندونگ، — چین بھر میں ایک منفرد عوامی مہم کے تحت وہ جگہیں جو عام طور پر مصنوعات، فلمی ستاروں اور تجارتی برانڈز کے اشتہارات سے بھری رہتی ہیں، اب سائنسدانوں کی تصاویر سے سجائی جا رہی ہیں۔  بڑے ایل ای ڈی اسکرین، بل بورڈ، شاپنگ مالز، میٹرو اسٹیشن، ہائی اسپیڈ ریل اسٹیشن اور ٹرینوں کے اندر موجود اسکرینوں پر چین کے ممتاز سائنسدانوں کے پورٹریٹ، ان کے کارنامے اور مختصر تعارف دکھائے جا رہے ہیں۔�
اس مہم میں راکٹ سائنسدان چیان شوسیئن، جوہری سائنسدان ڈینگ جیاشیئن، زرعی سائنسدان یوان لونگ پنگ، طب کی نوبیل انعام یافتہ تو یویویو، ریڈیو فلکیات کے ماہر نان رینڈونگ، اور دیگر ممتاز محققین شامل ہیں جن میں لین چیاوژی، چیان سانچیانگ، گو فینگژو، وو مینچاؤ اور چینگ کائیجیا جیسے سائنسدانوں کے کارنامے بھی دکھائے جا رہے ہیں۔�
یہ سلسلہ شاندونگ کے شہر ہیزے سے نمایاں طور پر شروع ہوا، جہاں تجارتی مراکز نے اپنے اہم اشتہاری مقامات پر سائنسدانوں کے بڑے پوسٹر لگائے۔  اس کے بعد زیبو، بن ژو، تائی آن، ڈونگ ینگ اور جینان سمیت شاندونگ کے متعدد شہروں میں یہ مہم پھیل گئی، پھر اندرونی منگولیا کے ہولن بئیر، آنہوئی کے ہیفئی، جیانگ شی کے جی آن، ہینان کے ژینگ ژو اور دیگر علاقوں میں بھی ایسے مناظر سامنے آئے۔�
جینان میں اس مہم نے خاصا وسیع پیمانہ اختیار کیا ہے۔ شہر کی میٹرو لائن 4 پر "روشنی کی طرف سفر، سائنسدانوں کی روح کا فروغ” کے عنوان سے خصوصی ٹرین چلائی گئی ہے جس کی 6 بوگیوں میں قدیم چینی سائنسی شخصیات سے لے کر جدید دور کے ممتاز سائنسدانوں تک کے کارنامے دکھائے گئے ہیں۔  میٹرو کے ایک اسٹیشن میں سائنسدانوں کے لیے مستقل موضوعاتی دیوار بھی بنائی گئی ہے۔�
شاندونگ کی اس مہم کو "10 ہزار اسکرینوں کے باہمی رابطے” کے منصوبے سے بھی جوڑا گیا ہے۔ صوبے میں 25 ہائی اسپیڈ ریل اسٹیشنوں کے بڑے اسکرین، 212 تیز رفتار ٹرینوں کی اندرونی اسکرینیں اور جینان میٹرو کی تقریباً 8,700 اسکرینیں سائنسدانوں کی خدمات سے متعلق مواد دکھا رہی ہیں۔  شاندونگ ایئرپورٹ کے حفاظتی جانچ والے علاقوں میں بھی سائنسدانوں کے بارے میں ویڈیوز نشر کی جا رہی ہیں۔�
مہم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ کئی پوسٹروں میں سائنسدانوں کی جوانی کی تصاویر استعمال کی گئی ہیں۔ منتظمین اور حامیوں کے مطابق اس کا مقصد نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ آج جن شخصیات کو قومی سائنس کی تاریخ کے بڑے ناموں کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، وہ بھی کبھی انہی کی طرح خواب دیکھنے والے نوجوان تھے۔  اس طرح سائنسی کامیابی کو کتابوں اور عجائب گھروں تک محدود رکھنے کے بجائے روزمرہ شہری زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔�
چینی ذرائع نے اس تبدیلی کو سب سے نمایاں مقام سائنسدانوں کو دینے سے تعبیر کیا ہے۔ جینان میں ایک مسافر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میٹرو میں اتنے سائنسدانوں کو دیکھنا غیر متوقع تھا اور عوامی مقامات پر ان کی خدمات اجاگر ہونے سے زیادہ لوگ ان کے بارے میں جان سکیں گے۔�
چین میں ستمبر کو قومی سائنس مقبولیت ماہ کے طور پر بھی بڑے پیمانے پر سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔  شاندونگ سائنس اسوسی ایشن اور دیگر اداروں نے 2026ء کے قومی سائنس ماہ کے لیے پورے صوبے میں سرگرمیوں کا منصوبہ بنایا ہے، جس کا موضوع "ٹیکنالوجی زندگی بدلتی ہے، جدت مستقبل جیتتی ہے” رکھا گیا ہے۔�
چائنہ ایسوسی ایشن برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (CAST) نے 34 سرکاری محکموں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر منگل کو 2026ء کا قومی سائنس پاپولرائزیشن منتھ شروع کیا، جس سے پورے چین میں نمائشوں، عملی سرگرمیوں اور عوامی سائنس پروگراموں کا ایک مہینہ شروع ہوا۔�
مہم نے چین سے باہر بھی توجہ حاصل کی ہے۔ بھارتی صنعت کار ہرش گوئینکا نے 31 اگست کو سوشل میڈیا پر چین کی مثال دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بھارت میں بڑے عوامی اشتہاری مقامات زیادہ تر سیاست دانوں اور فلمی ستاروں سے کیوں بھرے رہتے ہیں۔�
انہوں نے سائنسدانوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، اختراع کاروں اور ملک کی تعمیر میں کردار ادا کرنے والی دیگر شخصیات کو بھی نمایاں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ "معاشرہ جن لوگوں کو نمایاں طور پر سراہتا ہے، اس سے بچوں کی خواہشات اور رول ماڈل بھی متاثر ہوتے ہیں،” گوئینکا نے کہا۔�
چینی مہم کے حامیوں کے نزدیک اصل تبدیلی صرف یہ نہیں کہ ایک دن کے لیے اشتہاری پوسٹر بدل دیے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو روزمرہ زندگی میں بار بار ایسے نام اور چہرے دکھائی دیں جن کی پہچان شہرت یا دولت نہیں بلکہ تحقیق، دریافت اور عوامی خدمت ہو۔  سائنسدانوں کو شہر کے ان مقامات پر لانا جہاں عام طور پر سب سے زیادہ نظریں پڑتی ہیں، اسی سوچ کو عملی شکل دینے کی ایک کوشش ہے۔

متعلقہ پوسٹ