تہران —
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ دارالحکومت تہران پر بمباری سے ایران کی جنگی صلاحیت پر کوئی اثر نہیں پڑا اور ایران ان حملوں کو جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں عراقچی نے کہا کہ ایران نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنے مشرق اور مغرب میں امریکی فوج کی ناکامیوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور ان تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق کو اپنی دفاعی حکمت عملی میں پوری طرح شامل کر لیا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی "موزائیک دفاع” کی غیر مرکزی حکمت عملی انہیں یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ خود طے کریں کہ یہ جنگ کب اور کیسے ختم ہوگی۔
موزائیک دفاع کیا ہے؟
موزائیک دفاع ایک جدید عسکری حکمت عملی ہے جس میں مہنگے اور بڑے ہتھیاروں کی بجائے بڑی تعداد میں چھوٹے، سستے لیکن ذہین ہتھیاروں اور خودمختار یونٹس کا جال بچھایا جاتا ہے۔ اس نظام میں طاقت کسی ایک مرکز میں نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر بکھری ہوتی ہے۔ اگر دشمن چند یونٹس کو تباہ بھی کر دے تو باقی یونٹس مکمل خودمختاری کے ساتھ لڑائی جاری رکھتے ہیں، جس سے دشمن کے لیے اس دفاعی نظام کو مکمل طور پر ختم کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران میں ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں آئی آر جی سی کا مرکزی ہیڈکوارٹر اور ایرانی بیلسٹک میزائل سائٹس شامل ہیں۔

