رحیم یار خان میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ لیڈر کا کام عوام اور پارٹی کو بچا کر لڑنا اور جیل جانا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایسے لیڈر موجود ہیں جنہیں جیل میں ڈیڑھ سال بھی نہیں ہوا اور وہ کبھی آنکھ کے درد اور کبھی دودھ نہ ملنے کا شکوہ کرتے ہیں۔
جمہوریت اور ہتھیار اٹھانے پر مؤقف
چانگ ہاؤس نواز آباد میں خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ سیاست کو سیاست سمجھ کر مخالفت اور مقابلہ کرنا چاہیے۔ جمہوریت کی کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ ہتھیار اٹھائے جائیں۔
انہوں نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے حوالے سے کہا کہ ہتھیار اٹھانا عوام کا نقصان اور دشمن کا فائدہ ہے، کیونکہ جانیں مقامی لوگوں کی جاتی ہیں جبکہ بھڑکانے والے پاکستان کی حیثیت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
بھارت اور خطے کی صورتحال پر گفتگو
صدر مملکت نے کہا کہ قائداعظم نے پاکستان اس لیے بنایا کہ مودی جیسے حکمرانوں کے دور میں مسلمان محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اب سیکولر سوچ باقی نہیں رہی اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
جیل اور سیاسی جدوجہد کا ذکر
انہوں نے کہا کہ وہ خود ساڑھے 14 سال جیل میں رہے اور یہ سب کارکنوں کی طاقت سے برداشت کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل، جیل ہوتی ہے جہاں نہ سہولیات ہوتی ہیں نہ آسائش، اور لیڈر کو قربانی دینا پڑتی ہے۔
پیپلز پارٹی کا کردار
پاکستان پیپلز پارٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عوام آج بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کچھ لوگ طاقت اور دھونس کے ذریعے نشستیں لیتے ہیں مگر یہ عزت کا راستہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بنانے کی پیشکش کے باوجود انہوں نے خود حکومت نہیں لی بلکہ کہا کہ ملک چلائیں، ہم مدد کریں گے۔
علاقائی ترقی اور زرعی اصلاحات
صدر مملکت نے وسیب کے عوام کو نمائندگی اور ترقی کے مواقع دینے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ زرعی اصلاحات، پانی کی فراہمی اور جدید سہولیات سے کسان خوشحال ہوگا۔
شہید بینظیر بھٹو کا حوالہ
انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کو وطن واپسی سے روکا گیا مگر وہ شہادت کے لیے آئیں۔ ہمیں گولیوں سے نہ ڈراؤ، ہم نہیں ڈرتے۔
بلوچستان اور معدنی وسائل
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی معدنیات پر دشمن کی نظر ہے اور دہشت گردی کی سازشیں جاری ہیں۔ بھٹو کو چہرے سے نہیں بلکہ کاموں سے یاد رکھا جاتا ہے، جتنا جھکو گے اتنی عزت بڑھے گی۔


