ہزاروں خواتین نے نیشنل ریلی کے عوامی مقامات پر حجاب پہننے والی خواتین کو جرمانے کے منصوبے کے خلاف احتجاج میں اسکارف پہن کر تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کیں؛ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر وہ 2027ء کے صدارتی انتخابات جیتتی ہے تو ریفرنڈم کرایا جائے گا
فرانسیسی خواتین نے عوامی مقامات پر اسکارف (حجاب) پر پابندی کی تجویز کی مخالفت میں ایک آن لائن یکجہتی مہم شروع کی ہے، جس میں نیشنل ریلی پارٹی کے انتخابی وعدے کے خلاف احتجاج کے طور پر سر ڈھانپ کر اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں۔�
مہم میں شامل خواتین شرکاء نے مسلم خواتین کی حمایت میں پیغامات کے ساتھ سر پر اسکارف باندھے ہوئے اپنی تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ "اپنے تمام ان ہم وطنوں کی حمایت میں جو اسکارف پہنتی ہیں،” ایک کیپشن میں لکھا گیا، جبکہ ایک اور میں کہا گیا: "اگر یہ قانون منظور ہوا تو میں فوراً اسکارف پہنوں گی۔”�
یہ مہم نیشنل ریلی کے اس عزم پر بڑھتی تنقید کے درمیان زور پکڑتی جا رہی ہے کہ اگر پارٹی فرانس کے 2027ء کے صدارتی انتخابات میں فتح حاصل کرتی ہے تو عوامی مقامات پر اسکارف پر پابندی کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے گا۔�
اس تحریک کا آغاز نیشنل ریلی کے قانون ساز ژاں فلپ تانگی کے تبصروں کے بعد ہوا۔ انہوں نے ٹیلی ویژن پروگرام میں کہا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اگلے سال کے صدارتی انتخابات جیتتی ہے تو اسکارف پہننے والی خواتین کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔�
"ہم یقینی طور پر اسلامسٹ نظریے سے لڑیں گے اور ہم اسکارف پہننے کو سزا دیں گے، دنیا بھر کی ان تمام خواتین کے ساتھ یکجہتی میں جنہیں یہ پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے اور جو اس آزادی کے لیے مرتی ہیں،” تانگی نے بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا۔ انہوں نے تجویز کردہ سزا کا موازنہ سیٹ بیلٹ نہ پہننے والے ڈرائیوروں پر عائد جرمانے سے کیا۔
ان تبصرے پر فرانس بھر میں شدید تنقیدیں کی گئیں، جہاں انتہائی دائیں بازو کی پارٹی پہلے ہی عوامی مقامات پر اسکارف پر پابندی کو مرکزی انتخابی وعدہ بنا چکی ہے۔ نیشنل ریلی کے حکام نے کہا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو اس اقدام کو قومی ریفرنڈم کے لیے پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔�
مرین لی پین نے اگلے دن اس مسئلے پر ریفرنڈم کرانے کے اپنے ارادے کی تصدیق کی، جسے انہوں نے اس نظریے کے خلاف اپنی مہم کا حصہ قرار دیا جسے وہ "اسلامسٹ نظریہ” کہتی ہیں۔�
فرانس کے صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ 18 اپریل 2027ء کو ہوگا، جس کے بعد 2 مئی کو رن آف مرحلہ ہوگا، اور موجودہ صدر ایمانوئل میکرون آئینی مدت کی حد کی وجہ سے مسلسل تیسری مدت کے لیے انتخاب نہیں لڑ سکتے۔ یہ تجویز فرانسیسی سیاسی خبروں کے چکر پر غالب ہے اور اس نے لی پین کی اپنی صفوں میں بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔�
فرانس میں پہلے ہی سرکاری ملازمین پر ڈیوٹی کے دوران نمایاں مذہبی علامتیں پہننے پر پابندی ہے۔ 2004ء سے، ملک کے سیکولرازم کے قوانین کے تحت، سرکاری پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے طلبہ پر بھی نمایاں مذہبی علامتیں، بشمول اسکارف، پہننے پر پابندی عائد ہے۔�
حکومت نے اس تجویز پر قانونی اور عملی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایلیسی پیلس میں کابینہ کے اجلاس کے بعد حکومت کی ترجمان نے اشارہ کیا کہ عوامی مقامات پر حجاب پر جامع پابندی عائد کرنا آئینی اور عملی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

