بہت دور موجود دو کہکشائیں ایک دوسرے کی کشش سے قریب آکر آہستہ آہستہ مل رہی ہیں جن کی خوبصورت تصویر نے ماہرین اور طلبہ کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
یہ دونوں کہکشائیں زمین سے تقریباً 20 کروڑ نوری سال دور ہیں اور ان کے قریب آنے سے نئے ستاروں کے بننے کا عمل تیز ہونے کا امکان ہے۔
یہ کہکشائیں امریکی ریاست ہوائی میں ماؤنا کیا پہاڑ پر قائم ایک بڑی دوربین کی مدد سے طلبہ کے ایک گروپ نے دریافت کی ہیں۔
طلبہ کا تعلق وائی آکیا ہائی اسکول اور وولکینو اسکول آف آرٹس اینڈ سائنسز سے تھا۔ انہیں ایک تعلیمی پروگرام کے تحت دوربین سے آسمان کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔
طلبہ نے اپنی دریافت کو ایک مقامی نام دیا جس کا مطلب ’’دو جڑواں روحیں مل کر زندگی پیدا کرتی ہوئی‘‘ بتایا گیا ہے۔
طلبہ کے مطابق اس نام میں روح کا تصور ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دوربین کے ذریعے آسمان دیکھنے، پہاڑ کی چوٹی پر جانے اور سائنسی دریافتوں کے بارے میں سیکھنے کے تجربے نے انہیں بھی نئی تحریک دی۔
ماہرین کے مطابق تصویر میں نظر آنے والی کہکشاؤں کو سائنسی طور پر این جی سی 7253 کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں تقریباً 20 کروڑ نوری سال دور ایک ہی علاقے میں موجود ہیں۔
تصویر میں دونوں کہکشائیں ایک دوسرے کی کشش کی وجہ سے قریب آتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق کائنات میں کہکشاؤں کا اس طرح ایک دوسرے کے قریب آنا اور ملنا عام بات ہے۔
جب دو کہکشائیں ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں تو ان کے درمیان موجود گیس اور گرد و غبار بھی آپس میں مل جاتے ہیں جس کے نتیجے میں نئے ستاروں کے بننے کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہماری کہکشاں بھی مستقبل میں پڑوسی کہکشاں اینڈرومیڈا کے قریب جاسکتی ہے اور دونوں کے درمیان ملاپ ہوسکتا ہے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں کہکشاؤں کے تمام ستارے آپس میں ٹکرا جائیں گے کیونکہ کہکشاؤں کے اندر بہت زیادہ خالی جگہ موجود ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دو کہکشاؤں کا آپس میں ملنا صرف تباہی کا سبب نہیں بنتا بلکہ اس سے نئے ستارے بھی بن سکتے ہیں۔
طلبہ کے مطابق اس دریافت نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ آسمان اور ستاروں کا مطالعہ صرف سائنس تک محدود نہیں بلکہ اس سے انسان میں نئی سوچ، تجسس اور کائنات کو سمجھنے کا شوق بھی پیدا ہوتا ہے۔

