ملیالم فلموں کے سپر اسٹار مموتی 75 برس کے ہوگئے ہیں لیکن ان کی فٹنس آج بھی قابل رشک اور فلمی دنیا کے لیے حیرت کا باعث ہے۔
اداکار کی فٹنس کا راز کسی ایک سخت ڈائٹ یا ورزش میں نہیں بلکہ کھانے میں اعتدال، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور برسوں سے جاری نظم و ضبط پر کاربند رہنا ہے۔
اداکار مموتی نے اپنے طویل فلمی کیریئر کے دوران ہمیشہ ہی خود کو جسمانی طور پر متحرک اور مضبوط رکھنے پر توجہ جاری رکھی ہے۔
ان کے طرزِ زندگی سے متعلق رپورٹس میں متوازن غذا، محدود مقدار میں کھانا، جم میں ورزش اور مناسب آرام کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔
مموتی نے اپنی فٹنس کے فلسفے کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ پسندیدہ کھانوں کو مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے ان کی مقدار پر قابو رکھتے ہیں۔
یہی اصول اداکار سوریہ نے بھی مموتی سے حاصل ہونے والے مشورے کے طور پر بیان کیا ہے۔ مموتی نے انھیں کھانے کے معاملے میں اعتدال کا مشورہ دیا تھا۔
اداکار سوریہ کے بقول وہ اپنی پسند کی چیزیں کھاتے ہیں لیکن اتنی مقدار میں نہیں جتنی کھانے کو دل چاہتا ہے۔ ان کے بقول مموٹی کا یہ مشورہ ان کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا۔
ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کی توانائی کی ضرورت تبدیل ہوسکتی ہے اس لیے مناسب مقدار میں کھانا وزن کو متوازن رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے تاہم کم کھانے کا مطلب یہ نہیں کہ ضروری پروٹین، فائبر، وٹامنز اور معدنیات بھی کم کردی جائیں۔
مموتی کے غذا میں بہت زیادہ تُلی ہوئی اشیا، میٹھی چیزوں اور اضافی تیل سے گریز کرتے ہیں۔ جس کا مقصد غیر ضروری کیلوریز کم کرنا اور سبزیوں، پھلوں، مکمل اناج، گری دار میووں، انڈوں، مچھلی اور دیگر پروٹین سے بھرپور غذاؤں کو ترجیح دینا ہے۔
مموتی کی مبینہ روزمرہ غذا کیا ہے؟
مموتی پروٹین سے بھرپور کھانوں اور محدود انتخاب کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ ناشتے میں اوٹس کا دلیہ، انڈے کی سفیدی، پپیتا اور بھگوئے ہوئے بادام شامل ہوتے ہیں۔
اداکار دوپہر کے کھانے میں کم مصالحے والی مچھلی کی سالن کے ساتھ چاول کے بجائے اوٹس پٹّو لیتے ہیں۔
مموتی رات کے کھانے میں گندم یا اوٹس کے ڈوسے کے ساتھ چکن یا مچھلی کا سالن کھاتے ہیں۔ کبھی کبھی کھانے کے اختتام پر مشروم سوپ بھی پیتے ہیں۔
صرف ڈائٹ نہیں، جم بھی فٹنس کا اہم حصہ
مموتی کی فٹنس میں صرف کھانے کو ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا وہ طویل عرصے سے باقاعدگی سے جم میں ورزش کرتے ہیں۔
عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں پٹھوں کی طاقت اور حجم قدرتی طور پر کم ہوسکتا ہے اس لیے مناسب مزاحمتی ورزش یعنی اسٹرینتھ ٹریننگ جسمانی طاقت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
مضبوط پٹھے روزمرہ زندگی کے کاموں، جیسے سیڑھیاں چڑھنے، کرسی سے اٹھنے، سامان اٹھانے اور جسم کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
البتہ عمر رسیدہ افراد یا ورزش شروع کرنے والوں کے لیے ورزش کا انتخاب ان کی جسمانی صلاحیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ انتہائی بھاری وزن اٹھانے کے بجائے درست تکنیک، بتدریج پیش رفت اور مناسب آرام زیادہ اہم ہے۔
نیند کو بھی نظر انداز نہیں کرتے
فٹنس کے ساتھ مناسب نیند بھی مموتی کے مبینہ معمول کا اہم حصہ ہے۔ ورزش کے بعد جسم کو بحالی کے لیے آرام درکار ہوتا ہے جبکہ مناسب نیند توجہ، مزاج، جسمانی صحت اور ورزش کے بعد ریکوری میں مدد دے سکتی ہے۔
اداکار مموتی کا کہنا ہے کہ فٹنس کا مطلب صرف جم میں کئی گھنٹے گزارنا نہیں بلکہ ورزش، غذا اور آرام کے درمیان توازن قائم رکھنا بھی ہے۔
واضح رہے کہ مموتی کا شمار بھارتی ملیالم سنیما کے کامیاب ترین اور طویل عرصے سے فعال اداکاروں میں ہوتا ہے۔ کئی دہائیوں پر محیط کیریئر کے دوران انہوں نے مختلف النوع کردار ادا کیے اور اپنی اداکاری کے ساتھ ساتھ جسمانی فٹنس کے لیے بھی خاصی شہرت حاصل کی۔

