مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف وائٹ پیپر جاری کردیا

اختیار ولی اور ثمر بلور.webp


پشاور: مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی جانب سے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف وائٹ پیپر جاری کردیا جس میں صوبائی حکومت کی کارکردگی اور امن و امان کی صورتحال سے متعلق مؤقف پیش کیا۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی اور رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی اور صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر تنقید کی اور کہا کہ صوبے میں بدانتظامی اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے جب کہ حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے اقدامات ناکافی ہیں۔

اختیار ولی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بدانتظامی عروج پر ہے، صوبائی حکومت کو بتایا جائے کہ اس کی ترجیحات کیا ہیں اور موجودہ صورتحال کے عوامل کون سے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا حکومت کی لاپرواہی سب کے سامنے ہے جب کہ صوبے میں منشیات کی اسمگلنگ بھی عروج پر ہے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس نہ ہونے کے برابر ہیں اور پی ٹی آئی قیادت دہشت گردی کے واقعات کی مذمت بھی نہیں کرتی۔ خیبرپختونخوا میں امن کا گراف گررہا ہے اور سیکیورٹی کی صورتحال بتدریج زوال پذیر ہے جب کہ پولیس پر حملوں کی شدت اور دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2025 میں خیبرپختونخوا میں 63 پولیس اہلکار شہید اور 122 زخمی ہوئے جب کہ رواں سال اب تک 84 پولیس اہلکار شہید اور 175 زخمی ہوچکے ہیں۔

اختیار ولی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی محکمہ (سی ٹی ڈی) کے پاس جدید اسلحے اور ضروری آلات کی کمی ہے اور صوبائی حکومت سی ٹی ڈی کو جدید ہتھیار اور مطلوبہ فنڈز فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اختیار ولی کے مطابق صوبائی حکومت نے سی ٹی ڈی کو فراہم کی گئی جدید گاڑیاں بھی واپس وفاق کو کردی تھیں جب کہ پورے سی ٹی ڈی کے پاس صرف 9 ایم فور رائفلیں اور 11 نائٹ ویژن ڈیوائسز موجود ہیں۔

اختیار ولی نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں اور منشیات فروشوں کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائی میں ناکام رہی ہے جس کے باعث صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہورہی ہے۔

اس موقع پر رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اب تک ایپکس کمیٹی کا صرف ایک اجلاس کیا ہے جب کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات شرمناک ہیں۔

ثمر ہارون بلور نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لاہور میں ٹک ٹاک بنانے میں مصروف ہیں جب کہ خیبرپختونخوا میں شہریوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے بھی جانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کوہاٹ پولیس لائن پر حملے کو دلخراش واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کے دور حکومت میں کوہاٹ حملہ دہشت گردی کا دسواں واقعہ تھا۔

ثمر ہارون بلور کہتی ہیں کہ شہدا کے گھروں میں جاکر اہلخانہ سے تعزیت اور ان کی دلجوئی کرنا ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے مگر خیبرپختونخوا میں خواتین اور بچے تک محفوظ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کے شہدا کو سلام پیش کرنے سے بھی صوبائی حکومت کے دل نرم نہیں ہوئے جب کہ ان کے بقول حکومت پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور پولیس کا مورال گرانا چاہتی ہے۔

رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ وفاق سے آکر شہدا کے گھروں میں گئے، اہلخانہ سے تعزیت کی اور ان کا غم بانٹا۔

ثمر ہارون بلور نے مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی ضرورت اور اس سے حکومت کو حاصل ہونے والے فائدے کی وضاحت ہونی چاہیے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے تاہم پولیس نے ان کے بقول بزدلانہ احکامات ماننے سے انکار کردیا۔

پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی جانب سے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف وائٹ پیپر جاری کیا جس میں صوبائی حکومت کی کارکردگی اور امن و امان کی صورتحال سے متعلق مؤقف پیش کیا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ