بیس سالہ اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ وجے شیراوت نے صحافی سدھیر چودھری کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ الزام ہے کہ چودھری نے ڈی ڈی نیوز کے ایک پروگرام میں شیراوت کی غلط پہچان کرتے ہوئے انہیں پارلیامنٹ گرانے اور ہندوستان کو نیپال بنانے جیسے نعرے لگانے والابتایا۔ عدالت نے نوٹس جاری کیا ہے۔
سدھیر چودھری۔ (تصویر: ویڈیو سے لیا گیا اسکرین گریب)
نئی دہلی: 20 سالہ سماجی کارکن اور یو پی ایس سی کی تیاری کررہے ایک نوجوان نے صحافی سدھیر چودھری کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ معاملہ 27 جولائی کو ڈی ڈی نیوز پر نشر ہونے والے ان کے ڈیلی پرائم ٹائم شو ’ڈی کوڈ‘ سے متعلق ہے۔ الزام ہے کہ اس پروگرام میں چودھری نے درخواست گزار کے بارے میں گمراہ کن باتیں کہیں اور انہیں غلط طریقے سےکچھ واقعات سے جوڑ دیا۔
جسٹس سبرامنیم پرساد نے وجے شیراوت کی جانب سے دائر کی گئی عبوری روک کیعرضی پر نوٹس جاری کیا ہے۔ لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، عرضی میں شیراوت کی غلط پہچان کیے جانے اور ان کی ہتک عزت کا الزام لگایا گیا ہے۔ عدالت نے چودھری اور ڈی ڈی نیوز سے اس معاملے پر جواب طلب کیا ہے۔
اس مقدمے میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مدعا علیہان کو 27 جولائی کو نشر کیے گئے پروگرام کو دوبارہ نشر کرنے، اپنی ویب سائٹ یا کسی دوسرے پلیٹ فارم پر دستیاب کرانے، شائع کرنے، نشر کرنے یا کسی بھی طریقے سے عوام تک پہنچانے سے روکا جائے۔ مقدمے میں 5 کروڑ روپے ہرجانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ پروگرام میں یہ الزام لگایا گیا کہ دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی قیادت میں ہوئے احتجاج کے دوران شیراوت نے پارلیامنٹ کوگرانے اور ہندوستان کو نیپال میں بدلنے جیسی باتیں کہی تھیں۔ 27 جولائی کے ’ڈی کوڈ‘ پروگرام میں چودھری نے شیراوت کی تصویر دکھائی اور انہیں اس شخص کے طور پر پیش کیا جس نے مبینہ طور پر ’پارلیامنٹ کی عمارت اکھاڑ دی جائے گی… نیپال بنا دیا جائے گا‘ جیسے نعرے لگائے تھے۔
تاہم، شیراوت نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی بات کبھی نہیں کہی تھی اور حقائق کی ذرا بھی پروا کیے بغیر غلط بیانوں کو ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔
عرضی میں کہا گیا،’یہ ایک بدنیتی پر مبنی فعل تھا، جس کا مقصد حکومت کے ایک ناقد کی شبیہ کو خراب کرنا، ایک پرامن احتجاج کو ملک دشمن قرار دینا اور درخواست گزار کو عوامی نفرت اور خطرے کے سامنے لا کھڑا کرنا تھا۔ ‘
اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی اس معاملے کی وضاحت پیش کی تھی۔ تاہم، ان کے تقریباً 4,224 فالوورز تک ان کی بات کی رسائی ڈی ڈی نیوز کی رسائی کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ بار اینڈ بنچ کے مطابق، ڈی ڈی نیوز کا دعویٰ ہے کہ اس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر 1.4 ارب ویوز ہیں۔
ہائی کورٹ نے اس نشریات کو ہٹانے کے مطالبے سے متعلق عبوری درخواست پر نوٹس جاری کیا ہے اور معاملے کی اگلی سماعت 22 ستمبر کو مقرر کی ہے۔
ہائی کورٹ نے اپنے آرڈر میں کہا،’امید ہے کہ اگلی سماعت کی تاریخ پر مدعا علیہ نمبر 1، 2 اور 3 (چودھری، ایسّار اور ڈی ڈی) عبوری روک کی درخواست کے حوالے سے اپنے دلائل پیش کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔‘

