پاکستان کے قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے (این سی سی آئی اے) نے راولپنڈی میں ایک مبینہ غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 61 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ادارے کے مطابق ملزمان غیر ملکی شہریوں کو دھمکیاں دے کر غیر قانونی قرض وصولی کے نام پر رقم وصول کرتے تھے۔
ادارے نے پیر کو جاری بیان میں بتایا کہ اطلاع ملنے پر راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹاؤن کی کمرشل مارکیٹ میں واقع کال سینٹر پر کارروائی کی گئی اور ملزمان کو موقع سے پکڑا گیا۔ چھاپے کے دوران 71 موبائل فون اور 155 لیپ ٹاپ قبضے میں لیے گئے، جنھیں فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے بارے میں ادارے کا کہنا ہے کہ ملزمان خود کو رقم کی وصولی کرنے والے ایجنٹ ظاہر کر کے غیر ملکی شہریوں سے دھمکیوں کے ذریعے پیسے وصول کرتے تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے: ’ان اقدامات سے متاثرین کو شدید ذہنی اذیت پہنچی اور ملک کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔‘
ادارے کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ ضبط کیے گئے آلات کے تکنیکی تجزیے اور مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلام آباد اور راولپنڈی میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے۔ گذشتہ چند ماہ میں حکام مقامی اور غیر ملکی شہریوں سمیت سینکڑوں مشتبہ افراد کو حراست میں لے چکے ہیں۔
ادارے نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ اسلام آباد میں تین غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپوں کے دوران چینی شہریوں سمیت 212 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ یہ کارروائیاں مبینہ سائبر فراڈ کے سلسلے میں کی گئیں، جس کا تعلق انڈیا اور برازیل سے بتایا گیا۔ ادارے کے مطابق ان افراد نے خود کو گوگل کے نمائندے ظاہر کر کے مقامی اور غیر ملکی شہریوں سے ’ٹاسکنگ فراڈ‘ اور ’لو ڈیٹنگ سکیم‘ کے ذریعے رقم بٹوری۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ٹاسکنگ فراڈ‘ میں متاثرین کو آن لائن ملازمت کا جھانسہ دے کر معمولی کام سونپے جاتے ہیں اور کمیشن کا وعدہ کیا جاتا ہے، مگر بعد میں انھیں اپنی رقم جمع کرانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔
’لو ڈیٹنگ سکیم‘ میں ملزم انٹرنیٹ پر جعلی رومانوی تعلق قائم کر کے متاثرہ شخص سے رقم بٹورتا ہے۔
اس سے قبل اگست میں اسلام آباد کے علاقے گلبرگ گرینز میں ایک غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے کے دوران حکام نے 250 سے زائد غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا تھا۔
پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات اور سماجی رابطوں کے ذرائع کے بڑھتے استعمال کے ساتھ سائبر جرائم کی شکایات گذشتہ برسوں میں بلند سطح پر رہی ہیں، جن میں فراڈ، ہراسانی، بلیک میلنگ اور آن لائن بدسلوکی شامل ہیں۔ مئی میں پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس سائبر جرائم کی 157,465 شکایات درج کی گئیں۔

