نسل پرستی اور ایتھنک کلینزگ؛ اے ڈی ایف جرمن معیشت کے ستون پر کلہاڑی چلائے گی، چانسلر مزر کی پارلیمنٹ میں تقریر

news 1788966618 1144


(ویب ڈیسک)  جرمنی کے چانسلر  مزر نے ایک اہم ریاست میں الیکشن جیت لینے والی  انتہائی دائیں بازو کی AfD پارٹی  کے متعلق  پارلیمنٹ میں انکشاف کیا ہے کہ یہ پارٹی ایتھنک کلینزنگ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ 
ہٹلر کی ایتھنِک کلینزنگ سے  ہمیشہ خوفزدہ رہنے والے جرمن عوام کے لئے یہ تصور ہولناک ہے کہ جرمنی پر ایک مرتبہ پھر ایسے لوگ حاوی ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جو نسل پرستی اور ایتھنِک کلینزنگ کی کھلم کھلا وکالت کرتے ہیں اور غیر ملکیوں کو جرمنی سے نکالنے کی باتیں کرتے ہیں۔ اب چانسلر فریڈرک مرز  نے پبلک کے سامنے بیان دے دیا ہے جس میں چانسلر مزر نے کہ Saxony-Anhalt ریاست کے انتخابات میں انتہا پسند نسل پرست پارٹی اے ڈی ایف نے  44 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے بعد  معاشرہ کو نسیلی بنیاد پر یقسیم کرنا شروع کر دیا ہے۔

اے ڈی ایف خود کو متبادل پارٹی قرار دیتی ہے۔ Alternative für Deutschland ‘ کے نام سے تسلسل کے ساتھ نسل پرستی کو ہوا دے کر ووٹ مانگنے والی یہ پارٹی  جرمنی کی پارلیمنٹ کے الیکشن میں تو چانسلر مزر کی حکومت کو گرانے میں ناکام رہی تھی لیکن اب ایک اہم ریاست کے ریاستی اسمبلی کے الیکشن میں جرمنی کے چانسلر، فریڈرک مرز نے ریاستی انتخابات میں مقامی پارٹی کی زلزلہ انگیز فتح کے بعد، انتہائی دائیں بازو کی پارٹی الٹرنیٹو فر ڈوئچ لینڈ (AfD) پر الزام لگایا ہے کہ وہ  ” مائیگریشن”  (کے خلاف) کیپمین کے ساتھ "نسلی صفایا”  کی کوشش کر رہی ہے۔

اے ڈی ایف جرمن معیشت کے ستون پر کلہاڑی چلائے گی
سیکسونی اینہالٹ سٹیٹ  میں اتوار کے صدمے کے نتیجے کے بعد AfD کے ساتھ اپنے پہلے تصادم میں، میرز نے ایک سخت پارلیمانی بحث میں کہا کہ انتہائی دائیں بازو  کی یہ جماعت معیشت کے ایک ستون (غیر ملکی تارکین وطن) پر کلہاڑی چلائے گی اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کی نسل پرست کیپمین چلائے گی۔

چانسلر مزر نے بدھ کو  جرمنی کی پارلیمنٹ کی بنڈسٹاگ(ایوان زیریں)  میں دیگر فریقین کی جانب سے تالیاں بجانے اور شور مچانے کے  دوران کہا، "اصطلاح ‘ہجرت/ مائیگریشن’ نسل اور جلد کے رنگ کی بنیاد پر نسلی صفائی کے مترادف لفظ کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اے ایف ڈی کے پارلیمانی گروپ  کو مخاطب کرتے ہوئے، جس نے بار بار اسے اونچی آواز میں طعنوں اور  شور شرابے سے  روکا، مرز نے کہا کہ لاکھوں کام کرنے والے تارکین وطن جرمن معاشرے کے لیے بہت اہم ہیں۔

تارکین وطن کو نکالا تو جرمنی میں کیا کچھ بند ہو گا؛ مزر نے خوفناک نقشنہ کھینچ دیا

مرز نے کہا، "اگر جرمنی میں کام کرنے والوں کو دوبارہ ملک چھوڑنا پڑتا ہے کیونکہ آپ ‘امیگریشن’ کو چیمپیئن کر رہے ہیں، تو پھر جرمنی میں ہنر مند تجارت مزید کام نہیں کر سکے گی: ایک بھی کیئر ہوم نہیں کھلا رہے گا۔  جرمنی میں ایک بھی ہسپتال نہیں چل سکے گا اور جرمنی میں ایک بھی ریستوراں کاروبار میں نہیں رہ سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ AfD کی بیان بازی، جس نے اسے نازی دور کے بعد سے جرمنی کی ایک انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے لیے مضبوط ترین مظاہرہ کرنے پر اکسایا، "بالکل وہی چیز ہے جو ہمارے معاشرے کو اتنی گہرائی سے تقسیم کر رہی ہے”۔

مرز، خود   قدامت پسند کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی  کے نمائندہ ہیں۔ اس جماعت نے جرمنی کی ری یونیفیکیشن کے بعد بیشتر وقت جرمنی پر حکومت کی ہے۔ لیکن اب کچھ عرصہ سے  اس کی حمایت سکڑ رہی ہے اور اس کی جگہ انتہا پسند قوم پرستی لے رہی ہے۔ سی ڈی پی، کی حمایت 16 مہینوں میں گر گئی ہے۔ یہ وہ عرصہ ہے جب سے مزر نے حکومت بنانے کے لئے اپنے ہمیشہ کے مخالف سنٹر لیفٹ  (نسبتاً اعتدال پسند بائیں بازو) کے سوشل ڈیموکریٹس کے ساتھ اتحاد کی قیادت سنبھالی ہے۔ اس عرصہ کے دوران چانسلر مزر کی حکومت کو  اقتصادی ترقی میں سست پیش رفت اور زندگی گزارنے کی لاگت میں اضافہ پر  اپنے ووٹروں کی مایوسی کا مسلسل سامنا رہا ہے۔ جرمن شہریوں کی کچھ سیگمینٹس انتہا پسندوں کی کیمپین کے زیر اثر یہ سمجھنے لگی ہیں کہ جرمنی میں بڑھتی اقتصادی بد حالی میں امیگرنٹس کا بھی  کردار ہے۔

 چانسلر مزر نے اے ایف ڈی کی حمایت کو بڑھنے سے روکنے کے لئے خود بھی امیگرنٹس کے متعلق اپنی حکومت کی پالیسیوں مین لچک کم کی اور  غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لئے سرحدیں بلاک کرنے کی  پالیسی پر سخت لائحہ عمل اپنایا ہے، اور تسلیم کیا ہے کہ جرمنی کو اب بھی "ہجرت کے شعبے میں مسائل” ہیں۔

"ہمارے پاس اب بھی جرمنی میں بہت سے لوگ موجود ہیں جن کی یہاں مستقل رہائش نہیں ہونی چاہیے۔ یہ [حکمران] اتحاد میں اتفاق رائے ہے کہ ہمیں مزید لوگوں کو ملک بدر کرنے کی ضرورت ہے،” انہوں نے بدھ کو کہا۔

"لیکن ہم جرمنی میں کام کرنے والوں، جو ہماری خوشحالی میں حصہ ڈالتے ہیں، اور جن کا یہاں خیر مقدم کیا جاتا ہے، ان میں اور جن کے پاس جرمنی میں مستقل رہائش نہیں ہے اور جن کا ہمارا ملک چھوڑنا ضروری ہے، ان میں احتیاط سے فرق کرتے ہیں۔ آپ [AfD] کے برعکس، ہم یہ فرق کرنے میں بہت احتیاط کرتے ہیں۔”

news 1788966624 8118
Caption  (دائیں سے بائیں) AfD پارٹی کے شریک چیئرمین ٹینو کروپلا، الریچ سیگمنڈ اور ایلس ویڈل سیکسنی-انہالٹ  سٹیٹ کے ریاستی انتخابات کے ایک دن بعد۔

AfD نے سیکسونی اینہالٹ سٹیٹ کے ریاستی الیکشن  میں تقریباً 44% ووٹ حاصل کیے لیکن  اس کی ریاستی اسمبلی میں مطلق اکثریت سے تین نشستیں کم ہو گئیں۔ اس کے  ریاست کی سربراہی کے  امیدوار، الریچ سیگمنڈ، دوسری پارٹیوں کے درمیان ممکنہ حامیوں کی تلاش میں ہیں تاکہ انہیں ریاست کا وزیر اعظم منتخب کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیئے:  القاعدہ بی ایل اے اور طالبان پاکستان کا نیکسس، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آگئے 





Source link

متعلقہ پوسٹ