اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی پابندی، تل ابیب کا جوابی اقدام

ban israel import d


برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی کا اعلان کیا ہے، جبکہ ڈنمارک، فن لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، اسپین اور سویڈن سمیت دیگر ممالک نے بھی ایسے اقدامات کی حمایت کی۔ ۱۲ ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کا تشدد دو ریاستی حل کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے آبادکاری میں سہولت کار کمپنیوں پر مزید پابندیوں کا اعلان کیا، فرانس نے بستیوں کی "تیز رفتار توسیع” کو وجہ قرار دیا، جبکہ کینیڈا نے بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا۔ اقتصادی اثر محدود متوقع ہے کیونکہ بستیوں کی برآمدات اسرائیل کے کل تجارتی حجم کا بہت چھوٹا حصہ ہیں۔
اسرائیل نے فوری جوابی کارروائی کی: وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے، غزہ رابطہ مشن سے برطانیہ کو خارج کرنے، اور بعض برطانوی شخصیات پر داخلے کی پابندی کا اعلان کیا۔ ساعر نے برطانوی فیصلے کو اسرائیلی انتخابات میں مداخلت قرار دیا۔ امریکہ نے اقدام کی حمایت نہیں کی؛ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ یہ عدم استحکام بڑھا سکتا ہے۔ یورپی یونین کے ۲۷ ممالک مشترکہ پابندی پر متفق نہ ہو سکے، جس کے بعد انفرادی ممالک نے قومی سطح پر اقدامات کیے۔

متعلقہ پوسٹ