ڈھاکا، — بنگلہ دیش کئی دہائیوں کی بدترین خسرہ وبا کی لپیٹ میں ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے مطابق رواں سال اب تک ایک لاکھ 66 ہزار سے زائد مشتبہ کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے صورتحال کو قومی سطح کا ہائی رسک بحران قرار دے دیا ہے۔
ملک کے تمام 64 اضلاع اور آٹھوں ڈویژنز متاثر ہیں، جبکہ ڈھاکا کی گنجان کچی بستیاں وبا کے اہم مراکز بن گئی ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر بچے کل کیسز کا تقریباً 80 فیصد ہیں، اور نو ماہ سے کم عمر شیر خوار بچے — جو معمول کی ویکسینیشن کے لیے ابھی کم عمر ہیں — تقریباً ایک تہائی انفیکشنز کا حصہ ہیں۔ ماہرین اس بحران کی وجہ کووڈ کے دوران معمول کی ٹیکہ کاری میں خلل اور ویکسین کی قلت کو قرار دے رہے ہیں۔
حکومت نے یونیسیف، ڈبلیو ایچ او اور Gavi کے تعاون سے تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ بچوں کی ہنگامی ویکسینیشن مہم شروع کردی ہے، تاہم شدید متاثرہ علاقوں میں طبی مراکز پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

