
(ویب ڈیسک) بھارت کی ہندوتوا زدہ ریاست اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے معروف مسلمان لیڈر اعظم خان کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔ اس مرتبہ اعؓظم خان پر لکھنؤ حج کمیٹی کی تقریباً 60 ہزار مربع فٹ زمین کو فروخت کرنے کے معاملے میں لکھنؤ سیکٹر تھانہ میں یہ مقدمہ درج کیا ہگیا ہے۔ ان پر کسی کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگایا گیا لیکن زمین کی فروخت کو حج کمیٹی کے قواعد کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔
اعظم خان کے ساتھ ہی حج کمیٹی کے اس وقت کے سکریٹری لئیق احمد، ڈاکٹر ایم اے خان، امیش ڈیولپرز کے مالک محمد ایوب اور مستقیم احمد کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ حج کمیٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زمین فروخت کی، جس سے حکومت کو 2 کروڑ 8 لاکھ روپےریونیو کا نقصان ہوا۔
یہ ایف آئی آر اتر پردیش وییجلنس اسٹیبلشمنٹ کے لکھنؤ سیکٹر تھانے میں 8 ستمبر کو دوپہر تقریباً 2.45 بجے درج کی گئی۔ اس مقدمہ میں دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش جیسے الزامات شامل ہیں۔
ایف آئی آر اتر پردیش ویجیلینس اسٹیبلشمنٹ، لکھنؤ کے انسپکٹر دھرو چندر موریہ نے درج کرائی ہے۔ اس معاملے میں مجموعی طور پر 5 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ پہلے نمبر پر محمد اعظم خان کا نام ہے، جو اس وقت ریاستی حج کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ دوسرے ملزم لئیق احمد ہیں، جو حج کمیٹی کے اس وقت کے سکریٹری رہ چکے ہیں اور اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ تیسرے ملزم ڈاکٹر ایم اے خان بھی حج کمیٹی کے اس وقت کے سکریٹری رہے ہیں اور وہ بھی ریٹائر ہو چکے ہیں۔ چوتھے ملزم محمد ایوب ہیں، جو امیش ڈیولپرس نامی کمپنی کے مالک ہیں۔ پانچویں ملزم کا نام مستقیم احمد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہارنپور میں قدیم مسجد کا انہدام: ملبہ میں اینٹوں پر نظر آئے واضح ثبوت عدالت کو آلہ کار ثابت کر گئے
اس مقدمہ میں اعظم خان پر الزام ہے کہ ریاستی حج کمیٹی کے قوانین اور شرائط کو نظر انداز کرتے ہوئے لکھنؤ حج کمیٹی کی زمین امیش ڈیولپرز کو فروخت کر دی گئی۔ اس سودے میں حکومت کو 2 کروڑ 8 لاکھ روپے سے زیادہ کے ریونیو کا نقصان ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ چونکہ اس زمین کو سرکاری جائیداد تصور کیا جاتا ہے۔
اعظم خان ایک عرسہ سے یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کی ہِٹ لسٹ پر سب سے اوپر ہیں کیونکہ ان کا شمار اتر پردیش میں طاقتور ترین مسلمان سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عافیہ نعیم کی میٹرک امتحانات میں تیسری پوزیشن ہے، لاہور تعلیمی بورڈ نے غلطی تسلیم کر لی

