سلامتی کونسل میں سوڈان اور امارات کے درمیان شدید لفظی جھڑپ — الفاشر کی صورتحال پر ایک دوسرے پر سنگین الزامات

FB IMG 1762095012292


اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں سوڈان اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں کے درمیان سخت لفظی تکرار ہوئی۔ اجلاس میں الفاشر میں جاری خانہ جنگی اور انسانی بحران پر گفتگو کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ کو ہوا دینے اور شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
جمعے کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں سوڈان کے شہر الفاشر کی بگڑتی صورتحال پر بلائے گئے اجلاس میں ماحول اس وقت انتہائی کشیدہ ہوگیا جب سوڈان کے نمائندے الحارث ادریس نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا کہ وہ رَیپڈ سپورٹ فورس (RSF) کو ہتھیار، ڈرونز اور مالی وسائل فراہم کر کے سوڈان میں جاری خانہ جنگی کو ہوا دے رہا ہے۔
سوڈانی مندوب نے کہا، ’’یہ کہنا کہ امارات صرف انسانی امداد فراہم کر رہا ہے، حقائق کے منافی ہے۔ دراصل آپ ہی وہ فریق ہیں جو دارفور میں عام شہریوں پر بمباری کے لیے ڈرونز استعمال کر رہے ہیں۔‘‘
جوابی ردِعمل میں امارات کے نمائندے محمد ابو شہاب نے ان الزامات کو بے بنیاد اور ’’شرمناک‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ابو ظہبی نے سوڈان میں صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی اسپتال اور ہوائی اڈے کھولے ہیں۔ جنگ کو طول دینے کے الزامات جھوٹ اور گمراہ کن ہیں۔‘‘
سلامتی کونسل کے اجلاس میں موجود اقوامِ متحدہ کے عہدیداروں نے الفاشر میں انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ شہر میں شدید جھڑپوں کے باعث ہزاروں شہری بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ طبی سہولیات اور امدادی رسد بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق، دارفور میں لڑائی نے سوڈان کے پہلے سے جاری خانہ جنگی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور غیر ملکی مداخلت کے الزامات نے صورتحال کو سفارتی سطح پر بھی حساس بنا دیا ہے۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد کریں اور سیاسی حل کے لیے مذاکراتی عمل میں واپس آئیں، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ الفاشر میں لڑائی بدستور شدت اختیار کر رہی ہے۔

متعلقہ پوسٹ