اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی تاریخی زوال کا شکار: سروے

yahu 110926 d


تل ابیب،
اسرائیل میں ایک سروے کے مطابق انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی تاریخی زوال کا شکار ہے۔ معاریو اخبار کے شائع کردہ نئے سروے کے مطابق پارٹی 19 نشستوں پر آ گئی، جو مئی 2025 کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی جمعہ کو شائع ہونے والے ایک رائے عامہ کے سروے کے مطابق 19 نشستوں پر آ گئی ہے، جو مئی 2025 کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔ یہ سروے 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات سے تقریباً چھ ہفتے قبل سامنے آیا۔ سروے شائع کرنے والے اخبار معاریو نے اس نتیجے کو نیتن یاہو کی پارٹی کے لیے ”تاریخی زوال“ قرار دیا۔ یہ سروے لازار ریسرچ نے، جس کی سربراہی میناخم لازار کر رہے ہیں، پینل 4 آل ریسرچ پلیٹ فارم کے تعاون سے کیا۔
یہ سروے 9، 10 ستمبر کو 4,329 جواب دہندگان میں کیا گیا اور اس میں غلطی کا امکان 4 فیصد پوائنٹس تھا۔ نتائج کے مطابق، اگر آج انتخابات ہوتے تو لیکوڈ 19 نشستیں جیتتی، جو پیر کو کیے گئے سروے میں 21 نشستوں سے کم ہے۔ معاریو نے کہا کہ یہ 29 مئی 2025 کے بعد پارٹی کی کمزور ترین کارکردگی ہے۔
اس کے برعکس، سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کی یاشر پارٹی سروے میں 25 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی رہی، جس میں پیر کے سروے سے کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ یہ نتائج اسرائیلی جماعتوں کی کنیسٹ انتخابات کے لیے امیدواروں کی فہرستیں جمع کرانے کے تین دن بعد سامنے آئے۔
بلاک کی سطح پر، موجودہ حکومتی اتحاد کی جماعتیں 50 نشستیں حاصل کریں گی، جبکہ اپوزیشن جماعتیں 58 نشستیں جیتیں گی۔ عرب جماعتیں باقی 12 نشستیں حاصل کریں گی۔ یاد رہے کہ 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ جنگوں کے نتیجے میں نیتن یاہو کی مقبولیت میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے، اس کے علاوہ ان کا کرپشن مقدمات میں ملوث ہونا بھی گراوٹ کی ایک وجہ ہے۔ نیتن یاہو جنگوں کا بہانہ کرکے انتخابات کو موقوف کرانے میں کامیاب بھی ہوئے، تاہم یہی جنگیں ان کے خلاف عوامی رائے ہموار کرنے کا سبب بھی بنیں۔

متعلقہ پوسٹ