
(ویب ڈیسک)کینیڈا کے شہر سرے میں ایک بھارتی نژاد ہندو خاتون کی جانب سے پڑوسی کے گائے کا گوشت باربی کیو کرنے پر اعتراض اور مبینہ طور پر گوشت پھینکنے کے واقعے نے سوشل میڈیا پر مذہبی آزادی کے حوالے سے بحث چھیڑ دی۔
مقامی پولیس سے منسوب اطلاعات کے مطابق خاتون نے پڑوسی کو گھر کے باہر باربی کیو پر گائے کا گوشت تیار کرتے دیکھا تو اس پر اعتراض کیا۔
ہندووتوا خاتون کو امریکی پولیس پکڑ کر لے لےگئی امریکیوں کے ہاں امریکیوں کی عزت کی جاتی ہے غیر ملکیوں کا امریکیوں کے ہاتھوں عزت کا فالودہ بنتا ہوا دیکھ لیں گائے کا گوشت ہر کوئی کھا سکتا ہے ہندوتوا سمجھتے ہیں ہر جگہ ہماری اجارہداری ہے پنگے کا انجام https://t.co/OP8Lrnmbfk
— Jamshaid swati (@jamshaidswati) September 11, 2026
خاتون کا مؤقف تھا کہ ہندو مذہب میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے اور وہ اسے مذہبی عقیدے کے باعث قابل احترام سمجھتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق خاتون نے مبینہ طور پر پڑوسی کا تیار کیا جانے والا گوشت اٹھا کر پھینک دیا، جس کے بعد معاملہ مزید کشیدہ ہوگیا۔
الزام ہے کہ خاتون نے پڑوسی کے گھر میں داخل ہو کر تالا بھی تبدیل کردیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے خاتون کو گرفتار کرلیا، پولیس کارروائی کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر گھر میں داخل ہونے اور جائیداد میں مداخلت سے متعلق شکایات سے جوڑا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں:چکن کا مزہ، چیز کا خمار، آج کی کڑاہی بڑ ی شاہکار،چکن چیز کڑاہی بنانے کی منفرد ترکیب
واقعے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے مذہبی آزادی، باہمی احترام اور میزبان ملک کے قوانین کی پابندی سے متعلق بحث شروع ہوگئی۔
بعض صارفین نے خاتون کے مذہبی جذبات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے مؤقف کا دفاع کیا۔
دوسروں کا کہنا تھا کہ کسی شخص کے مذہبی عقائد اسے دوسرے فرد کی قانونی ملکیت یا نجی زندگی میں مداخلت کا اختیار نہیں دیتے۔
مبصرین کے مطابق کینیڈا جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان باہمی احترام ضروری ہے۔
تاہم مذہبی عقائد کے اظہار اور انہیں دوسروں پر مسلط کرنے کے درمیان قانونی اور سماجی حدود بھی برقرار رہتی ہیں۔

