بیف باربی کیو پر اعتراض بھارتی خاتون گرفتار

news 1789205225 4300



news 1789205225 4300

(ویب ڈیسک)کینیڈا کے شہر سرے میں ایک بھارتی نژاد ہندو خاتون کی جانب سے پڑوسی کے گائے کا گوشت باربی کیو کرنے پر اعتراض اور مبینہ طور پر گوشت پھینکنے کے واقعے نے سوشل میڈیا پر مذہبی آزادی کے حوالے سے بحث چھیڑ دی۔

مقامی پولیس سے منسوب اطلاعات کے مطابق خاتون نے پڑوسی کو گھر کے باہر باربی کیو پر گائے کا گوشت تیار کرتے دیکھا تو اس پر اعتراض کیا۔

خاتون کا مؤقف تھا کہ ہندو مذہب میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے اور وہ اسے مذہبی عقیدے کے باعث قابل احترام سمجھتی ہیں۔

 اطلاعات کے مطابق خاتون نے مبینہ طور پر پڑوسی کا تیار کیا جانے والا گوشت اٹھا کر پھینک دیا، جس کے بعد معاملہ مزید کشیدہ ہوگیا۔

الزام ہے کہ خاتون نے پڑوسی کے گھر میں داخل ہو کر تالا بھی تبدیل کردیا۔

واقعے کے بعد پولیس نے خاتون کو گرفتار کرلیا، پولیس کارروائی کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر گھر میں داخل ہونے اور جائیداد میں مداخلت سے متعلق شکایات سے جوڑا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں:چکن کا مزہ، چیز کا خمار، آج کی کڑاہی بڑ ی شاہکار،چکن چیز کڑاہی بنانے کی منفرد ترکیب

 واقعے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے مذہبی آزادی، باہمی احترام اور میزبان ملک کے قوانین کی پابندی سے متعلق بحث شروع ہوگئی۔

بعض صارفین نے خاتون کے مذہبی جذبات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے مؤقف کا دفاع کیا۔

 دوسروں کا کہنا تھا کہ کسی شخص کے مذہبی عقائد اسے دوسرے فرد کی قانونی ملکیت یا نجی زندگی میں مداخلت کا اختیار نہیں دیتے۔

مبصرین کے مطابق کینیڈا جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان باہمی احترام ضروری ہے۔

 تاہم مذہبی عقائد کے اظہار اور انہیں دوسروں پر مسلط کرنے کے درمیان قانونی اور سماجی حدود بھی برقرار رہتی ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ