اوبوک، جبوتی: یمن میں حوثی جنگجوؤں کی باب المندب کے اطراف پیش قدمی اور کنٹرول مضبوط ہونے کے بعد تقریباً 1,400 افراد 24 گھنٹوں کے دوران یمن سے جبوتی پہنچ گئے۔
الجزیرہ اور اے ایف پی کے مطابق جبوتی کے وزیر معیشت و خزانہ الیاس موسیٰ دوالے نے بتایا کہ صرف 24 گھنٹوں میں تقریباً 1,400 پناہ گزین یمن سے جبوتی پہنچے ہیں۔ اس سے ایک روز قبل بھی 500 افراد کو سمندر میں کشتیوں کا ایندھن ختم ہونے کے بعد ریسکیو کرکے ساحلی شہر اوبوک پہنچایا گیا تھا۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق اوبوک پہنچنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید افراد کے پہنچنے کا امکان ہے۔
اوبوک یمنی ساحل سے سمندر کے راستے تقریباً 20 کلومیٹر دور ہے اور کئی برس سے جنگ سے متاثرہ یمن سے فرار ہونے والے افراد کے لیے اہم مقام بنا ہوا ہے۔
IOM کے مطابق جولائی سے یمن میں جاری لڑائی کے باعث تقریباً 76 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جبکہ حالیہ کشیدگی میں اضافے کے بعد نقل مکانی کی رفتار مزید تیز ہوئی ہے۔
حوثیوں نے جمعرات کو بحیرہ احمر کی بندرگاہی شہر موخا پر قبضہ کیا تھا اور اس کے بعد باب المندب کے اطراف ساحلی علاقوں اور جزیروں کی جانب پیش قدمی کی۔ اس فوجی پیش قدمی کے باعث کئی علاقوں میں خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ یہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ عالمی بحری تجارت اور خطے میں انسانی نقل مکانی کے حوالے سے بھی تشویش بڑھا دی ہے۔

