عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں سے ریلیف دینے کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات مسلسل تاخیر کا شکار ہیں، دو دور بے نتیجہ رہنے کے بعد حکومت نے تیسرے دور کے لیے بھی مزید ایک روز کی مہلت مانگ لی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پیر کو ہونے والے مذاکرات منگل تک مؤخر کر دیے گئے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی نے حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ سے رابطہ کرکے وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام پہنچایا۔ لیاقت بلوچ کے مطابق احسن اقبال نے بتایا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات منگل کو ہوں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی جبکہ پیٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے معاملات پر دو الگ کمیٹیاں قائم کر رکھی ہیں۔ ان کے مطابق پیٹرولیم لیوی پر حکومت سے مذاکرات منگل کو جبکہ آئی پی پیز کے معاملے پر بات چیت بدھ کو ہوگی۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے ہی دو دور ہوچکے ہیں، تاہم دونوں ادوار کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوئے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں کمی یا خاتمے اور عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت مختلف تجاویز پر غور کے لیے وقت طلب کرتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے تیسرے دور میں پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر جماعت اسلامی کے مطالبات اور حکومت کی تجاویز پر مزید بات چیت متوقع ہے۔ اس کے بعد آئی پی پیز سے متعلق معاملات پر بھی دونوں فریق اپنا مؤقف پیش کریں گے۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی شامل ہیں جبکہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کر رہے ہیں جبکہ کمیٹی میں سید فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا، عنایت اللہ خان، ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ، نوید علی بیگ اور شاہد نعیم شامل ہیں۔
جماعت اسلامی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے باوجود احتجاجی پروگرام بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور دیگر معاشی بوجھ سے ریلیف دیے بغیر احتجاجی تحریک ختم نہیں کی جائے گی۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان آئندہ مذاکرات میں پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ تیسرے دور میں بھی کوئی اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاجی لائحہ عمل مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔
Source link

