دہلی میں ماحولیاتی معاوضے کے طور پر جمع رقم کا تقریباً 60 فیصد خرچ نہیں ہوا: رپورٹ

Air Pollution PTI


فضائی آلودگی کو کم کرنے کے مقصد سے دہلی میں داخل ہونے والی کمرشیل گاڑیوں پر ماحولیاتی معاوضہ چارج  لگایا جاتا ہے، جسے بعد میں دہلی حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع کیا جاتا ہے۔ آر ٹی آئی کے تحت موصولہ ایک جواب کے مطابق، دہلی حکومت کو اس چارج سے ملے 1,935.44 کروڑ روپے میں سے 1,153.93 کروڑ روپے خرچ ہی نہیں کیے گئے۔

Air Pollution PTI
شدید فضائی آلودگی کے دوران کم وزیبیلیٹی کے درمیان ٹریفک کو منظم کرتے ہوئے ایک ٹریفک پولیس اہلکار۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: آر ٹی آئی کے تحت موصولہ ایک جواب سے پتہ چلا ہے کہ دہلی حکومت کو ماحولیاتی معاوضہ چارج (انوائرمنٹ کمپنسیشن چارج – ای سی سی)  کے طور پر 1,935.44 کروڑ روپے ملے ہیں، لیکن اس کا تقریباً 60 فیصد حصہ اب تک خرچ نہیں ہوا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، آر ٹی آئی کے جواب کے مطابق، 1,935.44 کروڑ روپے میں سے صرف 781.51 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ 1,153.93 کروڑ روپے خرچ نہیں کیے گئے۔

ماحولیاتی معاوضہ چارج سپریم کورٹ نے 2015 میں لگایا تھا اور اسے دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) وصول کرتی ہے۔ فضائی آلودگی کو کم کرنے کے مقصد سے دہلی میں داخل ہونے والی کمرشیل گاڑیوں پر یہ چارج لگایا جاتا ہے۔ بعد میں اس سے حاصل ہونے والی رقم دہلی حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع کی جاتی ہے۔

آرٹی آئی کے جواب کے مطابق، اب تک خرچ کی گئی زیادہ تر رقم بڑے ٹرانسپورٹ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر خرچ ہوئی ہے۔ اس میں سب سے بڑی رقم 500 کروڑ روپے تھی، جو مئی 2023 میں دہلی-میرٹھ ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (آر آر ٹی ایس)کوریڈور کے نفاذ کے لیے نیشنل کیپیٹل ریجن ٹرانسپورٹ کارپوریشن(این سی آر ٹی سی) کو منظور ی دی گئی تھی۔

مارچ 2019 میں اسی منصوبے کے لیےاین سی آر ٹی سی کو 265 کروڑ روپے اور جاری کیے گئے تھے۔

آر ٹی آئی کارکن امت گپتا، جنہوں نے یہ عرضی داخل کی تھی، نے اخبار کو بتایا، ’عدالت کے احکامات اور ماہرین کی جانب سے گمبھیر قدم اٹھانے کی تجاویز کے باوجودآلودگی کم کرنے پر براہ راست اثر ڈالنے والے بڑے منصوبوں کے لیے فنڈ کا صحیح  طریقے سے استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔‘

اس سے قبل سپریم کورٹ نے دہلی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ’ایئر کوالٹی مینجمنٹ کمیشن‘ (سی اے کیو ایم) کی عبوری سفارشات کے ساتھ ساتھ بچے ہوئے پیسےکو طویل مدتی اقدامات کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ پیش کرے۔ سپریم کورٹ نے اپنے بتائے گئے اقدامات کے لیے فنڈکا مکمل طور پر استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

تاہم، گاڑیوں سے ہونے والی فضائی آلودگی کو کم کرنے کے مقصد سے شروع کیے گئے ای سی سی کے لیے مختص فنڈ کا مکمل استعمال نہیں ہو سکا ہے۔

دی وائر نےپہلے رپورٹ کیا تھا کہ دہلی میں واقع’سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ‘(سی ایس ای) کے پچھلے سال کے ایک تجزیے سے پتہ چلا تھا کہ کھیتوں میں پرالی جلانے کے واقعات میں کمی کے باوجود اکتوبر اور نومبر میں دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح بلند رہی، جس کی بنیادی وجہ گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی تھی۔

تجزیے کے مطابق، ریئل ٹائم فضائی آلودگی کے ڈیٹا سے پتہ چلاکہ پیک ٹریفک کےاوقات کے دوران باریک ذرات(فائن پارٹیکولیٹ میٹریا پی ایم2.5، جو ہوا میں موجود ایک اہم آلودگی ہے) کی سطح نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ (دونوں ہی گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی ہیں)کی سطح میں ہونے والے روزانہ کے اتار چڑھاؤجیسی ہی تھی۔

گزشتہ اگست میں دہلی اسمبلی میں پیش کی گئی گئی کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی پرفارمنس آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا  تھا کہ دہلی میں ماحولیاتی معاوضہ چارج کی وصولی سے متعلق 280 دنوں کا ریکارڈ غائب تھے، جبکہ اس مد میں جمع کیے گئے 843.12 کروڑ روپے اب تک خرچ نہیں کیے گئے ہیں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ