نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے جمعے کو اپوسٹیل اور دستاویزات کی تصدیق کے نظام سے متعلق میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت خارجہ کے دستاویزات کی تصدیقی نظام کی تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔
نائب وزیراعظم کے دفتر سے 18 ستمبر، 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹی اپوسٹیل اور دستاویزات کی تصدیق کے نظام میں کسی بھی غلط استعمال یا بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرے گی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
وزارتِ خارجہ میں شہریوں کی مختلف دستاویزات، جن میں تعلیمی اسناد، پیدائش و شادی کے سرٹیفکیٹس، پولیس کلیئرنس، پاور آف اٹارنی اور تجارتی دستاویزات شامل ہیں، بیرون ملک استعمال کے لیے تصدیق کی جاتی ہیں۔
دستاویزات کی تصدیق کے نظام سے متعلق ایک مبینہ تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ غیر قانونی چینلز کے ذریعے شہریوں سے بھاری رقوم وصول کی گئیں۔ جیو نیوز کے مطابق مبینہ رپورٹ میں ایک ایسے نیٹ ورک کی نشاندہی کا دعویٰ کیا گیا جس نے شہریوں سے دستاویزات کی تصدیق کے لیے غیر قانونی سہولت کے عوض آٹھ لاکھ روپے تک وصول کیے، جبکہ ایک سال کے دوران مبینہ طور پر 12 ارب روپے جمع کیے گئے۔
وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور شہریوں سے غیر قانونی وصولیوں کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر مصدقہ اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ سجاد علی خان کے مطابق مئی 2024 سے اب تک 17 لاکھ 25 ہزار دستاویزات کی تصدیق کی جا چکی ہے، جس سے 3.94 ارب روپے ریونیو حاصل ہوا، جبکہ وزارت کا کہنا ہے کہ تصدیق اور ادائیگی کا عمل آن لائن اور براہِ راست متعلقہ اکاؤنٹس کے ذریعے ہوتا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کورئیر سروسز کے کردار کا بھی جائزہ لے گی جبکہ وزارت خارجہ کے افسران کے ممکنہ ملوث ہونے کی صورت میں ان کے کردار کا تعین بھی کیا جائے گا۔
کمیٹی کو موجودہ نظام میں ضروری اصلاحات اور نظامی بہتری کے لیے تجاویز پیش کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تین رکنی کمیٹی کے کنوینر سیکریٹری پٹرولیم حامد یعقوب شیخ ہوں گے، جبکہ سیکریٹری قانون راجہ نعیم اکبر اور سپیشل سیکریٹری خزانہ قمر سرور عباسی کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔
نوٹیفکیشن میں وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری (ایڈمن) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کمیٹی کو مکمل معاونت فراہم کریں اور تحقیقات کے لیے تمام متعلقہ ریکارڈ اور مواد تک رسائی یقینی بنائیں۔
کمیٹی کو اپنی سفارشات اور تحقیقات کے نتائج دو ہفتوں کے اندر نائب وزیراعظم کے دفتر کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کمیٹی کے دائرہ کار میں اپوسٹیل/اٹیسٹیشن نظام کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی، کورئیر سروسز کے کردار کا جائزہ، وزارت خارجہ کے افسران کے ممکنہ کردار کی جانچ اور نظام میں اصلاحات کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔

